30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شبہہ ثالثہ:کے دو۲ر دگزرے امراول وسوم سے۔
ثالثًا:یہ حدیث جس طرح دیوبندی نے بتائی صریح افترا ہے،نہ صحیح مسلم میں کہیں اس کا پتا ہے۔
رابعًا:حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر اعمالِ اُمت پیش کیے جانے کو غلط و محض افترا کہنا غلط و محض افترا ہے۔بزار اپنی مسند میں بسندِ صحیح جیدّ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
|
حیاتی خیرلکم تحدثون ونحدث لکم،ووفاتی خیر لکم تعرض علیّ اعمالکم فمارأیت من خیر حمدت اﷲ علیہ وما رأیت من شراستغفرت اﷲ لکم [1]۔
اللھم صل وسلم وبارك علیہ صلوۃ تکون لك ولہ رضاء ولحقہ العظیم اداء اٰمین۔ |
میری زندگی تمہارے لیے بہتر ہے مجھ سے باتیں کرتے ہو اور ہم تم سے باتیں کرتے ہیں،اور میری وفات بھی تمہارے لیے بہتر،تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جائیں گے جب بھلائی دیکھوں گا حمدِ الہٰی بجالاؤں گا اور جب برائی دیکھوں گا تمہاری بخشش چاہوں گا۔(ت) اے اﷲ ! درود و سلام اور برکت عطا فرما آپ پر ایسا درود جو تیری اور ان کا رضا کا ذریعہ ہو اور اس سے انکے عظیم حق کی ادائیگی ہو۔آمین۔(ت) |
مسند حارث میں انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
|
حیاتی خیر لکم تحدثون وتحدث لکم فاذا انامت کانت وفاتی خیرالکم تعرض علیّ اعمالکم فان رأیت خیرا حمدت اﷲ وان رأیت شرا ذٰلك استغفرت اﷲ لکم [2]۔ |
میری جینا تمہارے لیے بہتر ہی مجھ سے باتیں کرتے ہو اور ہم تمہارے نفع کی باتیں تم سے فرماتے ہیں،جب میں انتقال فرماؤں گا تو میری وفات تمہارے لیے خیر ہوگی،تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جائیں گے اگر نیکی دیکھوں گا حمد الہٰی کروں گا اور دوسری بات پاؤں گا تو تمہاری مغفرت طلب کروں گا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع