30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تب درست ہے لیکن اس میں یہ قباحت ہے کہ ضمیر(وہ)کسی جگہ نہیں آتا،میں نے ترمیم اس طرح کی ہے: ؎
وہ مکاں سے اور مرض سے پاك ہے جسم و جوہر سے عرض سے پاك ہے
اس میں اگرچہ کلمہ مادہ کا دور ہوا جاتا ہے لیکن بندش میں شگفتگی ہوتی ہے اور مادہ کی توضیح یوں بھی ہوسکتی ہے کہ جب مرض سے پاك ہے لامحالہ مادہ سے بھی پاك ہے کہ مادی شے کو مرض لازمی ہے۔
(۶)صفحہ ۵:
حاضر و ناظر وہی ہے ہر جگہ کچھ نہیں پوشیدہ اس سے بے شبہ
اعتراض:شبہ غلط ہے صحیح:
حاضر وناظر وہ ہے ہر ایك جا اس سے پوشیدہ نہیں کوئی ذرا
جواب:چونکہ اس تفریس کو میں خود مقبوح کہہ چکا ہوں لہذ ااس سے مجھ کو اتفاق ہے۔
(۷)صفحہ ۶:
وہ مجیب عرض اور دعوات ہے بیشبہ وہ قاضی الحاجات ہے
اعتراض:قافیہ،ترمیم:شرك و کفر و فسق سے نفرت اسے
جواب:ترمیم تسلیم۔
(۸)صفحہ ۷:
ہے وہ راضی طاعت و ایماں سے شرك و کفرو فسق سے ناخوش وہ ہے
اعتراض:ترمیم:بالیقین وہ قاضی الحاجات ہے۔
جواب نمبر ۲:مفصل گزرا،اس کو غلط سمجھنا معترض کی غلطی ہے۔
(۹)صفحہ ۸: ؎
حق ہے معراج محمد دیں پناہ آسمانوں پر الٰی ماشاء اللہ
اعتراض:بغیر اضافت محمد دیں پناہ کی ترکیب اجنب ہے۔
جواب:جناب بغیر اضافت کیوں رکھتے ہیں،اگر محمد کی دال کو خفیف اضافت دی جائے تو کیا حرج ہے،شعر وزن سے نہیں گرے گا۔
حق ہے معراج محمد دیں پناہ فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
(۱۰)الٰی ماشاء الله غلط ہے،ترمیم ؎
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع