30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اوّلًا:ممکن کہ اشتراك اسماء ہو،وفاتِ گنگوہی صاحب کے وقت جو لوگ ان کاموں میں ہوں انکے یہ نام ہوں۔
ثانیًا:بابِ تشبیہ واسع ہے جیسے لکل فرعون موسٰی(ہر فرعون کے مقابلے میں موسٰی ہوتا ہے۔ت)مگر جناب گنگوہی صاحب کے کلام میں کہ امام ابویوسف شاگردِ امام ابوحنیفہ جو سید العلماء تھے کوئی تاویل بنتی نظر نہیں آتی سوا اس کے اتنا عظیم جہل شدید یا حضرت امام پر اتنا بیباکانہ افترائے بعید ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العزیز المجید۔
رابعًا:بفرض صحتِ حکایت یہ معبر کی اپنی مقدار علم ہے ممکن کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے عمر ہی بتائی ہو خواہ مجموع خواہ باقی۔پانچ انگلیوں سے اشارے میں پانچ یا چھ دن یا ہفتے یا مہینے یا برس یا ساٹھ بہتر برس یا تیس سال دس مہینے گیارہ دن یا اکتیس سال چار مہینے چند دن،بارہ احتمال ہیں،کیا دلیل ہے کہ خواب دیکھنے والے کی عمر اگرچہ بفرضِ غلط امام احمد ہی ہوں روزِ خواب سے آخر تك ان میں سے کسی مقدار پر نہ ہوئی امام احمد کی عمر شریف ستتر(۷۷)سال ہوئی،اگر پانچ برس کی عمر میں خواب دیکھا ہو تو سب میں بڑا احتمال بہتر سال ممکن ہے ا ور باقی زیادہ واضح ہیں،یا اصل دیکھئے تو امام احمد و امام ابن سیرین کا نام تو دیوبندیوں نے بنالیا۔کیا دلیل کہ واقعی خواب دیکھنے والے کی ساری عمر چار احتمال اخیر سے کسی شمار پر نہ ہوئی خواب دیکھنے والے کی تاریخ اور دیکھنے والے کی تاریخ ولادت وفات یہ سب صحیح طور پر معلوم ہوئیں اور ثابت ہو کہ اس کی مجموع عمرو باقی عمر کوئی ان میں سے کسی احتمال پر ٹھیك نہیں آتی،اس وقت اس کہنے کی گنجائش ہو کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اس سے مقدارِ عمر کی طرف اشارہ نہ فرمایا،اور جب کہ ان میں سے کچھ ثابت نہیں تو ممکن کہ حضور حضور نے عمر ہی بتائی ہو معبر کو اس کے جاننے کی طرف راہ نہ تھی لہذا اپنی سمجھ کے قابل اسے غیوبِ خمسہ کی طرف پھیر دیا،دیوبندیوں کو تو شاید اس اشارے میں یہ بارہ احتمال سمجھنے بھی دشوار ہوں حالانکہ وہ نہایت واضح ہیں اور ان کے سوا اور دقیق احتمام بھی تھے کہ ہم نے ترك کردیئے۔
شبہہ ثانیہ:کے تین رَدگزری امر اول و دوم و سوم سے۔رابعًا دیوبندیوں کی عبارت کہ آپ کے علم مشاہدہ میں نقصان ثابت ہو گیا علم غیب پر اطلاع تو ابھی دور ہے جس ناپاك و بیباك طرزپر واقع ہوئی اس کا جواب تو اِن شاء اﷲ تعالٰی روزِ قیامت ملے گا مگر ان سفیہوں کو دین کی طرح عقل سے بھی مس نہیں،امراہم و اعظم و اجل و اعلٰی میں اشتعال بارہا امرسہل سے ذہول کا باعث ہوتا ہے،ایسی جگہ اس کے ثبوت سے ہی اس کا انتفا ہوتا ہے نہ کہ اس کی نفی سے اس کی نفی پر استدلال کیا جائے۔ ولکن الوھابیۃ قوم یجہلون (لیکن وہابی جاہل قوم ہے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع