30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علیہ المسلمون مات فی ربیع الاٰخرسنۃ ثنتین و ثمانین ومائۃ عن سبعین سنۃ الاسنۃ ولہ اخبار فی العلم والسیادۃ [1]۔ |
آپ پر متفق ہیں۔آپ نے ماہِ ربیع الثانی ۱۸۲ہجری کو ۶۹ برس کی عمر میں وصال فرمایا۔علم و سیادت میں ان کی متعدد خبریں ہیں۔(ت) |
وفیات الاعیان میں ہے:
|
کانت ولادۃ القاضی ابی یوسف سنۃ ثلث عشرۃ ومائۃ وتوفی یوم الخمیس اول وقت الظھر لخمس خلون من شہر ربیع الاول سنۃ اثنتین وثمانین و مائۃ ببغداد [2]۔ |
قاضی ابو یوسف کی ولادت ۱۱۳ھ کو اور وفات ۵ ربیع الاول ۱۸۲ھ بروز جمعرات بوقتِ اول ظہر بغداد میں ہوئی۔ت) |
اسی میں تاریخِ شہادتِ حضرت حلاج میں لکھا:
|
"یوم الثلثاء لسبع بقین وقیل لست بقین من ذی القعدۃ سنۃ تسع وثلثمائۃ [3]۔ |
۲۳ یا ۲۴ ذوالقعدہ ۳۰۹ھ بروز منگل(ت) |
سلطان اورنگزیب محی الدین عالمگیر انار ا ﷲ تعالٰی برہانہ کی حکایت مشہور ہے کہ کسی مدعیِ ولایت کا شہرہ سن کر اس کے پاس تشریف لے گئے،اس کی عمر طویل بتائی جاتی تھی۔سلطان نے پوچھا۔جناب کی عمر شریف کس قدر ہے؟ کہا مجھے تحقیق تو یاد نہیں مگر جس زمانے مین سکندر ذوالقرنین امیر تیمور سے لڑرہا تھا میں جوان تھا سلطان نے فرمایا:علاوہ کشف و کراماتِ درفن تاریخ ہم کمالے دارند(کشف و کرامات کے علاوہ فنِ تاریخ میں بھی کمال رکھتے ہیں۔ت)
دیوبندی صاحبوں نے تو ترپن چون ہی برس کا بل رکھا تھا،جناب گنگوہی صاحب سوا سو برس سے بھی اونچے اڑ گئے یعنی شملہ بمقدار علم،اس سنت پر قائم ہو کر اگر کوئی دیوبندی یا تھانوی حضرت گنگوہی صاحب کے تذکرہ میں لکھ دیتا کہ عالیجاب گنگوہیت مآب کو ابن ملجم نے غسل دیا اور یزید نے نماز پڑھائی اور شمر نے قبر میں اتارا،تو کیا مستعبد تھا بلکہ وہ اس سے قریب تر ہوتا دو وجہ سے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع