30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بدیہیات میں بھی انکار رکھتے ہیں۔ذٰلك بانھم قوم یکابرون(یہ اس لیے ہے کہ وہ حق کا انکار کرنے والی قومی ہے۔ت)اور شُبہ سوم کا حال بھی ظاہر،روزِ قیامت کا عظیم ہجوم،تمام اولین وآخرین وانس و جن کا ازدحام،لاکھوں منزل کے دور میں مقام اور حوض و صراط و میزان پر گنتی شمار کی حد سے باہر،مختلف کام اور ہر جگہ خبر گیراں صرف ایك محمد رسول اﷲ سیّد الانام علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والسلام اس سے کروڑویں حصے کا کروڑواں حصہ ہجوم،کارہائے عظیمہ مہمہ اگر ایسے دس ہزار پر ہو جن کی عقل نہایت کامل اور حواس کمال مجتمع اور قلب اعلٰی درجہ کا ثابت تو ان کے ہوش پراں ہوجائیں،آئے حواس گم ہوں یہ تو محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا سینہ پاك ہے جس کی وسعت کے حضور عرش اعظم مع جملہ عوالم صحرائے لق و دق میں بھنگے کے مانند ہیں جسے ان کا رب فرماتا ہے:" اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ ۙ﴿۱﴾ "[1]۔(کیا ہم نے تمہارا سینہ کشادہ نہ کیا۔ت)پھر ان عظیم و خارج از حد کاموں کے علاوہ وقت وہ سہمناك کہ اکابر انبیاء و مرسلین نفسی نفسی پکاریں،رب عزوجل اس غضب شدید کے ساتھ تجلی فرمائے ہو کہ نہ اس سے پہلے کبھی ہوئی نہ اس کے بعد کبھی ہو،پھر ایك مسلمان انہیں اس سے زیادہ پیارا جیسے مہربان ماں کو اکلوتا بچہ،وہ جوشِ ہیبت،وہ کام کی کثرت،وہ وفورِ رحمت،وہ لاکھوں منزل کا دورہ،وہ کروڑوں طرف نظر،سنکھوں طرف خیال،ایسی حالت میں اگر بعض باتیں ذہن اقدس سے اتر جائیں تو عین اعجاز ہے،جس سے بالا صرف علمِ الٰہی ہے وبس۔"ولکن الوھابیۃ قوم لایعقلون"(لیکن وہابی وہ قوم ہیں جنہیں عقل نہیں۔ت)اوراس پر صریح دلیل حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو تمام امت کا دکھایا جانا حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے تمام امت کے اعمال برابر عرض ہوتے رہنا تو ہے ہی،جس پر احادیثِ کثیرہ ناطق،اگرچہ وہابیہ اپنی ڈھٹائی سے انکار کریں مگر سب سے زیادہ صاف صریح دلیل قطعی یہ ہے کہ آخر روزِ قیامت کچھ لوگوں کی نسبت یہ واقعہ پیش آنے کی حدیثِ بیان کون فرمارہا ہے،خود حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہی تو ارشاد فرمارہے ہیں اگر اس ہجوم عظیم،کارہائے خطیر میں ذہول نہ ہوتا تو یہ واقعہ ہی نہ ہوتا تو اس وقت اتنے ذہول سے چارہ نہیں۔" لِّیَقْضِیَ اللہُ اَمْرًا کَانَ مَفۡعُوۡلًا ۬ۙ"[2]۔(تاکہ اﷲ پورا کرے جو کام ہوناہے۔ت)ولٰکن الوھابیہ قوم یفرقون(لیکن وہابی تفریق پیدا کرنے والی قوم ہے۔ت)
رابعًا:پہلا شبہہ امر چہارم سے دو بارہ مردود ہے کسی کی مقدار عمر وقتِ موت اسے بتادینا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع