30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یعنی روزِ اول سے روزِ آخر تك کی ہر شَے ہر بات کا علم عطا فرمایا،اور اصول میں مبرہن ہوچکا کہآیاتِ قطعیہ کے خلاف کوئی حدیث احاد بھی مسلم نہیں ہوسکتی،اگرچہ سندًا صحیح ہو تو مخالف قرآن عظیم کے خلاف پر جو دلیل پیش کرے اس پر چار باتوں کا لحاظ لازم:
اول:وہ آیت قطعی الدلالۃ یا ایسی ہی حدیث متواتر ہو۔
دوم:واقعہ تمامی نزول ِ قرآن کے بعد کا ہو۔
سوم:اس دلیل سے راسًا عدم حصولِ علم ثابت ہو کہ مخالف مستدل ہے اور محل ذہول میں اس پر جزم محال،اور وہ منافی حصول علم نہیں بلکہ اس کا مثبت و مقتضی ہے۔
چہارم:صراحۃً نفی علم کرے ورنہ بہت علوم کا اظہار مصلحت نہیں ہوتا اور اﷲ اعلم یا خدا ہی جانے یا اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا ایسی جگہ قطع طمع جواب کے لیے بھی ہوتا ہے اور نفی حقیقت ذاتیہ،نفی عطائیہ کو مستلزم نہیں۔اﷲ عزوجل روزِ قیامت رسولوں کو جمع کرکے فرمائے گا " مَاذَاۤ اُجِبْتُمْ ؕ"تم جو کفار کے پاس ہدایت لے کر گئے انہوں نے کیا جواب دیا،عرض کریں گے " لَا عِلْمَ لَنَاۤ"[1]۔ہمیں کچھ علم نہیں۔
ان شبہات اور انکے امثال کے رَد کو بھی چار جملے بس ہیں،اور یہاں امر پنجم اور ہے کہ وہ واقعہ روزِ اول سے قیامِ قیامت تك یعنی ان حوادث سے ہو جو لوحِ محفوظ میں ثبت ہیں کہ انہیں کے احاطہ کا دعوٰی ہے۔امور متعلقہ ذات و صفات و ابد وغیرہ نامتناہیات سے ہو تو بحث سے خروج اور دائرہ جنون و سفاہت میں صریح ولوج ہے۔ان جملوں کے لحاظ کے بعد وہابیہ کے تمام شبہات برباد ہوجاتے ہیں" کَشَجَرَۃٍ خَبِیۡثَۃِۣ جْتُثَّتْ مِنۡ فَوْقِ الۡاَرْضِ مَا لَہَا مِنۡ قَرَارٍ ﴿۲۶﴾ "[2]۔(جیسے ایك گندہ پیڑ کہ زمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا ہے اب اُسے قیام نہیں۔ت)
اب یہیں ملاحظہ کیجئے:
اولًا:چاروں شبہے امر اوّل سے مردود ہیں ان میں کون سی آیت یا حدیث قطعی الدلالۃ ہے۔
ثانیًا:دوسرا اور چوتھا شبہہ امردوم سے دوبارہ مردود ہیں کہ یہ ایام نزول کے وقائع ہیں یا کم از کم ان کا بعد تمامی نزول ہونا ثابت نہیں۔
ثالثًا:دوسرا شبہہ امرسوم سے سہ بارہ اور تیسرا دوبارہ مردود ہے،شبہہ دوم میں تو صریح بدیہی یقینی ذہول تھا،نماز فعل اختیاری ہے اور فعل اختیاریہ بے علم و شعور ناممکن مگر وہابیہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع