30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں بھی علامت جمع واؤ کے علیحدہ کرنے سے قافیہ مفرد کا صحیح نہیں رہتا،ایك استاد جن کا نام مجھ کو یاد نہیں فرماتے ہیں ؎
تم درود اس نام پر پڑھتے رہو اے مومنین ! چھوڑ دو سب ذکر جب ہو ذکر ختم المرسلین
(۴)صفحہ ۵: ؎
وہ کسی کا بھی نہیں محتا ج ہے اس کے سب محتاج ہیں چھوٹے بڑے
اعتراض:قافیہ غلط،یوں چاہیے اس کی ہی محتاج ہے ہر ایك شے
جواب:نمبر۲ میں گزر چکا۔
(۵)صفحہ ۵:
پاك ہے وہ جسم و جوہر عرض سے مادہ سے اور مکاں سے مرض سے
اعتراض:جوہر کے مقابل عرض بفتحتین ہے اور نیز مرض،یوں چاہیے: ؎
ہے عرض اور جسم و جوہر سے وہ پاك مادہ سے اور مرض اور گھر سے پاک
جواب:یہ بضرورت جائز ہے اس کا نام تفریس ہے،اگرچہ یہ تفریس قبیح ہے،لیکن جائز ہونے میں شك نہیں،اکثر اہلِ فارس نے لغات عربی میں بموجب شہرت عام کی ہے،مثلًا حرکت بفتحاتِ ثلثہ مّلا فوقی: ع
زبس خوش حرکت وشیریں ادا بود
کفن بفتحتین،لیکن شفائی کہتا ہے۔
از لتہ حیض خواہرش کفن کند
پس ایك زبان کے لغت کو دوسری میں تفریس کرکے لانا صحیح،ہاں عربی کو عربی،فارسی کو فارسی میں تفریس کرے تو ضرور نا جائز،باایں ہمہ اس تفریس کو میں بھی پسند نہیں کرتا اور اب میں نے ان تمام متغیر الحرکات لغات کو اصلی حرکات سے ملبس کر کے درست کرلیا ہے۔شعر کو جناب نے ترمیم فرما کر جو تحریر فرمایا ہے اس میں پاك ہر دو جگہ متحدالمعنٰی ہے پھر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ قافیہ کیونکر درست ہوگا۔ہاں اس طرح تر میم کیا جائے۔ ؎
وہ عرض اور جسم و جوہر سے ہے پاک مادہ سے اور مرض گھر سے ہے پاک
یا یوں ؎
ہے عرض اور جسم جوہر سے پاك مادہ سے اور مرض اور گھر سے پاک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع