30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بے اصل ہے۔
امام ابن حجر مکی نے افضل القرٰی میں فرمایا:لم یُعرف سَنَد [1]۔اس کے لیے کوئی سند نہ پہنچانی گئی۔
افسوس اسی منہ سے مقام اعتقادیات بتانا،احادیثِ صحیحہ بھی نامقبول ٹھہرنا،اسی منہ سے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا علمِ عظیم گھٹا کر ایسی بے اصل حکایت سے سند لانا اور ملمع کاری کے لیے شیخ محقق کا نام لکھ جانا جو صراحۃً فرمارہے ہیں کہ اس حکایت کی جڑ نہ بنیاد،آپ اس کے سوا کیا کہیے کہ ایسوں کی داد نہ فریاد۔اﷲ اﷲ نبی صل اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے مناقب عظیمہ اور باب فضائل سے نکلوا کر اس تنگنائے میں داخل کرائیں تاکہ صحیحیں بخاری و مسلم کی حدیثیں بھی مردود بنائیں اور حضور کی تنقیص شان میں یہ فراخی دکھائیں کہ بے اصل بے سند مقولے سب سما جائیں۔ع
حال ایمان کا معلوم ہے بس جانے دو
بالجملہ بحمداﷲ تعالٰی زید سُنی حفظہ اﷲ تعالٰی کا دعوٰی آیات قطعیہ قرآنیہ سے ایسے جلیل و جمیل طور سے ثابت جس میں اصلًا مجال دم زدن نہیں،اگر یہاں کوئی دلیل ظنّی تخصیص سے قائم بھی ہوتی تو عموم قطعی قرآن عظیم کے حضور مضمحل ہوجاتی۔نہ کہ صحیح مسلم و صحیح بخاری وغیرہا سُنن وصحاح و مسانید و معاجیم کی احادیث صریحہ،صحیحہ،کثیرہ،شہیرہ اس عموم و اطلاق کی اور تاکید وتائید فرمارہی ہیں۔
احادیثِ مبارکہ:
صحیحین بخاری و مسلم میں حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے:
|
قام فینا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مقامًا ماترك شیئا یکون فی مقامہ ذٰلك الٰی قیام الساعۃ الّاحدّث بہ حفظہ من حفظہ ونسیہ من نسیہ [2]۔ |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ایك بار ہم میں کھڑے ہو کر ابتدائے آفرنیش سے قیامت تك جو کچھ ہونے والا تھا سب بیان فرمادیا،کوئی چیز نہ چھوڑی،جسے یاد رہا یاد رہا،جو بھول گیا بھول گیا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع