30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے گھٹانے کو آیاتِ قطعیہ قرآنیہ میں پیش کی جاتی ہیں ان سب کا جواب انہیں دو فقروں میں ہوگیا ہے دو حال سے خالی نہیں،یا تو ان قصص سے تاریخ معلوم ہوگی یا نہیں،اگر نہیں تو ان سے استدلال درست نہیں کہ جب تاریخ مجہول تو ان کا تمامی نزولِ قرآن سے پہلے ہونا صاف معقول اور اگر ہاں تو دو حال سے خالی نہیں یا وہ تاریخ تمامی نزول سے پہلے کی ہوگی یا بعد کی،
پہلی صورت میں استدلال کرنا درست نہیں،برتقدیر ثانی اگر مدعائے مخالف میں نص صریح نہ ہو تو استناد محض خرط القتاد، مخالفین جو پیش کرتے ہیں سب انہیں اقسام کی ہیں۔ان آیات کے خلاف پر اصلًا ایك دلیل صحیح صریح قطعی الافادہ نہیں دکھا سکتے،اور اگر بفرض غلط تسلیم ہی کرلیں تو ایك یہی جواب جامع و نافع و نافی و قامع سب کے لیے شافی و کافی،کہ عموم آیاتِ قطعیہ قرآنیہ کی مخالفت میں اخبار احاد سے استناد محض غلط ہے۔اس مطلب پر تصریحاتِ آئمہ اصول سے احتجاج کروں اس سے یہی بہتر ہے کہ خود مخالفین کے بزرگوں کی شہادت پیش کروں۔ ع
مدعی لاکھ پرہ بھاری ہے گواہی تیری
نصوص قطعیہ قرآن عظیم کے خلاف پر احادیث احاد کا سُنا جانا بالائے طاق،یہ بزرگوار صاف تصریح کرتے ہیں کہ یہاں خبر واحد سے استدلال ہی جائز نہیں،نہ اصلًا اس پر التفات ہوسکے،اسی براہن قاطعہ ما امر اﷲ بہ ان یوصل میں اسی مسئلہ علم غیب کی تقریریوں لکھتے ہیں:عقائد مسائل قیاسی نہیں کہ قیاس سے ثابت ہوجائیں،بلکہ قطعی ہیں،قطعیات نصوص سے ثابت ہوتے ہیں کہ خبرِ واحد یہاں بھی مفید نہیں،لہذا اس کا اثبات اس وقت قابلِ التفات ہو کہ قطعیات سے اس کو ثابت کرے[1]۔
نیز صفحہ ۸۱ پر لکھا:اعتقادات میں قطعیات کا اعتبار ہوتا ہے،نہ ظنیاتِ صحاح کا [2]۔
صفحہ ۸۷ پر ہے:احاد صحاح بھی معتبرنہیں،چنانچہ فنِ اصول میں مبرہن ہے[3]۔
الحمدُ ﷲ تمام مخالفین کو دعوتِ عام ہے فاجمعوا شرکاء کم(اپنے شرکاء کو جمع کرلو۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع