30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اثبات میں کتاب تقویۃ الایمان کی عبارتیں پیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی نسبت یہ عقیدہ کہ آپ کو علمِ ذاتی تھا خواہ یہ کہ خدا نے عطا فرمادیا تھا۔دونوں طرح شرك ہے۔
اب علمائے ربانی کی جناب میں التماس ہے کہ ان دونوں سے کون برسرِ حق موافق عقیدہ سلف صالح ہے اور کون بدمذہب جہنمی ہے،نیز عمرو کا دعوٰی ہے کہ شیطان کا علم معاذ اﷲ حضور سرور کائنات صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے علم سے زیادہ ہے۔اس کا گنگوہی مرشد اپنی کتاب براھین قاطعہ کے صفحہ ۴۷ پر یوں لکھتا ہے کہ شیطان کو وسعتِ علم نص سے ثابت ہوئی فخر عالم کی وسعتِ علم کی کون سی نصف قطعی ہے[1]۔
الجواب :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
|
اللھم لك الحمد سرمدًا صل وسلم وبارك علٰی من علمتہ الغیب و نزھتہ من کل عیب وعلی اٰلہ وصحبہ ابدًا رب انی اعوذ بك من ھمزات الشیاطین واعوذبك رب ان یحضرون۔ |
اے اﷲ تمام تعریفیں ہمیشہ ہمیشہ تیرے لیے ہیں،درود و سلام اور برکت نازل فرما اس پر جس کو تو نے غیب کا علم عطا فرمایا ہے اور اس کو ہر عیب سے پاك بنایا ہے اور اس کی آل و اصحاب پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔اے میرے پرورگار ! تیری پناہ شاطین کے وسوسوں سے،اور اے میرے پروردگار ! تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں۔(ت) |
زید کا قول حق و صحیح اور بکر کا زعم مردود و قبیح ہے۔بے شك حضرت عزت عزت عظمۃ نے اپنے حبیب اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو تمامی اولین و آخرین کا علم عطا فرمایا۔شرق تا غرب،عرش تا فرش سب انہیں دکھایا۔ملکوت السموت والارض کا شاہد بنایا،روزِ اول سے روزِ آخر تك سب ماکان ومایکون انہیں بتایا،اشیائے مذکورہ سے کوئی ذرہ حضور کے علم سے باہر نہ رہا۔علم عظیم حبیب کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم ان سب کو محیط ہوا۔نہ صرف اجمالًا بلکہ صغیر و کبیر،ہر رطب و یابس،جو پتّہ گرتا ہے،زمین کی اندھیریوں میں جو دانہ کہی پڑا ہے سب کو جدا جدا تفصیلًا جان لیا،ﷲ الحمد کثیرًا۔بلکہ یہ جو کچھ بیان ہوا ہرگز ہرگز محمد رسول اﷲ کا پورا علم نہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وصحبہ اجمعین و کّرم،بلکہ علم حضور سے ایك چھوٹا حصہ ہے،ہنوز احاطہ علم محمدی میں وہ ہزار دو ہزار بے حد و کنار سمندر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع