30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
استغراق دریں مشاہدات توجہ بسوئے اکوان نبود پس بعض اکوان مغفول عنہ ماند وایں وجہ وجیہ است[1]۔ |
مشاہدہ میں مشغول ہونے کی وجہ سے توجہ عالم کی طرف نہ تھی اس لیے بعض حالات پوشیدہ رہے یہ بہترین توجیہ ہے۔(ت) |
(۱۰۵ و ۱۰۶ و ۱۰۷ و ۱۰۸)امام قرطبی شارح صحیح مسلم،پھر امام عینی بدر محمود،پھر امام احمد قسطلانی شارح صحیح بخاری،پھر علامہ علی قاری مرقاۃ شرح مشکوۃ حدیث وخمس لایعلمھن الا اﷲ کی شرح میں فرماتے ہیں۔
|
فمن ادعٰی علم شیئ منہا غیر مسند الٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان کاذبًا دعواہ [2]۔ |
یعنی جو کوئی قیامت و غیرہ خمس سے کسی شے کے علم کا اِدعا کرے اور اسے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت نہ کرے کہ حضور کے بتائے سے مجھے یہ علم آیا،وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے۔ |
صاف معلوم ہوا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان پانچوں غیبوں کو جانتے ہیں اور اس میں سے جو چاہیں اپنے جس غلام کو چاہیں بتاسکتے ہیں،اور جو حضور کی تعلیم سے ان کے علم کا دعوٰی کرے اس کی تکذیب نہ ہوگی۔
(۱۰۹)روض النضیر شرح جامع صغیر امام کبیر جلال الملتہ والدین سیوطی سے اس حدیث کے متعلق ہے۔
|
اما قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الا ھو ففسر بانہ لا یعلمہا احد بذاتہ و من ذاتہ الا ھو لکن قد تعلم باعلام اﷲ تعالٰی فان ثمہ من یعلمھا وقد وجدنا ذٰلك لغیر واحد کما راینا جماعتہ |
نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ جو فرمایا کہ ان پانچویں غیبوں کو اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا اس کے یہ معنی ہیں کہ بذاتِ خود اپنی ذات سے انہیں اﷲ ہی جانتا ہے مگر خدا کے بتائے سے کبھی ان کو بھی ان کا علم ملتا ہے بے شك یہاں ایسے موجود ہیں جو ان غیبوں کو جانتے ہیں اور ہم نے متعدد اشخاص |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع