30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کان اقوٰی قلبًا ولہذا قال علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ و اﷲ ماقلعت باب خیبر بقوۃ جسدانیۃ ولٰکن بقوۃ ربانیۃ وکذٰلك العبداذا واظب علی الطاعات بلغ الی المقام الذی یقول اﷲ تعالٰی کنت لہ سمعًا وبصرًافاذا صار نور اجلال اﷲ تعالٰی سمعًا لہ سمع القریب و البعید واذاصارذٰلك النور بصرًا لہ راٰی القریب و البعید واذا صارذٰلك النوریدا لہ قدر علی التصرف فی الصعب و السہل والبعید والقریب[1]۔ |
دل زیادہ زبردست ہوتا ہے،ولہذا مولٰی علی نے فرمایا:خدا کی قسم میں نے خیبر کا دروازہ جسم کی قوت سے نہ اکھیڑا بلکہ ربانی طاقت سے،اسی طرح بندہ جب ہمیشہ طاعت میں لگا رہتا ہے تو اس مقام تك پہنچتا ہے جس کی نسبت رب عزوجل فرماتا ہے کہ وہاں میں خود اس کے کان آنکھ ہوجاتا ہوں تو جب اجلالِ الٰہی کا نور اس کا کان ہوجاتا ہے بندہ نزدیك،دور سب سنتا ہے اور جب وہ نور اس کی آنکھ ہوجاتا ہے بندہ نزدیك و دور،سب دیکھتا ہے اور جب وہ نور اس کا ہاتھ ہوجاتا ہے بندہ سہل و دشوار و نزدیك و دور میں تصرفات کرتا ہے۔ |
(۱۰۳)حضرت مولوی معنوی قدس سرہ العلوی دفتر ثالث مثنوی شریف میں موزہ و عقاب کی حدیث مستطاب میں فرماتے ہیں حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
گرچہ ہر غیبے خدا مارا نمود دل دراں لحظہ بخود مشغول بود[2]
(اگرچہ ہر غیب خدا نے ہم کو دکھایا ہے لیکن دل اس وقت اپنی ذات میں مشغول تھا۔ت)
(۱۰۴)مولانا بحرالعلوم ملك العلماء قدس سرہ،شرح میں فرماتے ہیں:
|
محمد رضا گفتہ اے فکر تن نداشت و از جہت استغراق بعضی مغیبات برانبیاء مستور شوند انتہٰی،معنی بیت ایں چنیں ست کہ دل بخود مشغول بود کہ دل نفس دل رامشاہدہ می کرد و ذات باحدیث جمیع اسماء دردل ست پس بسبب |
یعنی محمد رضا کہتا ہے دل کو بدن کی فکر نہ تھی اور استغراق کی وجہ سے بعض غیوب انبیاء سے چھپ جاتے ہیں انتہی،شعر کے معنی یہ ہیں کہ دل ذات دل کا مشاہدہ کررہا تھا اور ذات احدیث تمام اسماء کے ساتھ دل میں ہے،پس اس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع