30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جانتے ہیں،وہابیہ کے نزدیك کافر و مشرك ہونے کو یہی بہت ہے،بلکہ ان کے نزدیك امام ممدوح کو کافر و مشرك سے بہت بڑھ کر کہنا چاہیے۔
گنگوہی صاحب نے صرف اتنی بات کو کہ دنیا میں جہاں کہیں مجلس میلاد ہو حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو اطلاع ہو جائے،زمین کا علم محیط مانا اور صاف حکمِ شرك جڑ دیا کہ شرك نہیں تو کون سا حصّہ ایمان کا ہے [1]۔
تو امام کہ صرف زمین درکنار،زمین و آسمان و فرش و عرش و تمام عالم کے جملہ اجناس و انواع و اصناف و اشخاص و اجرام کو نہ صرف حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بلکہ وہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا بھی علم محیط مانتے ہیں گنگوہی دھرم میں ان کو تو کئی لاکھ درجے ڈبل کافر ہونا چاہیے والعیاذ باﷲ تعالٰی ورنہ اصل بات یہ ہے کہ اصالۃ علوم غیب اور ان کے عطاو نیابت سے ان کے خدام اکابر اولیائے کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو بھی ایك ایك ذرہ عالم کا تفصیلی علم عطا ہونا ہر گز ممنوع نہیں بلکہ بتصریح اولیاء واقع ہے،جیسا کہ عنقریب آتا ہے وﷲ الحمد۔
(۷۶)یہی مضمون شریف تفسیر نیشا پوری میں بایں عبارت ہے:
|
الاطلاع علٰی تفاصیل اٰثار حکمۃ اﷲ تعالٰی فی کل احد من مخلوقات ھذہ العوالم بحسب اجناسہا وانواعہا واصنافہا واشخاصہا واعوارضہا ولواحقہاکما ھی لا تحصل الا لاکابر الانبیاء و لہذا قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی دعائہ ارنی الاشیاء کما ھی[2]۔ |
ان عالموں کی مخلوقات میں سے ہر ایك کے تمام آثار حکمت الہیہ پر انکی جنسوں،نوعوں،قسموں اور فردوں،نیز عوارض و لواحق حقیقہ پر مطلع ہونا اکابر انبیاء کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں ہوتا۔اسی وجہ سے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دعا میں عرض کیا کہ مجھے اشیاء کی حقیقتیں دکھا۔(ت) |
اس میں اٰثار حکمۃ اﷲ کے ساتھ تفاصیل زائد ہے۔ھذاالعالم کی جگہ ھٰذہ العوالم ہے کہ نظر تفصیلی پر زیادہ دلالت کرتا ہے اور اجناس وانواع و اصناف و اشخاص کے ساتھ عوارض ولواحق بھی مذکور ہے کہ احاطہ جملہ جواہر و اعراض میں تصریح تر ہو، اگرچہ اجناس عالم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع