30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بھا الاٰن وانما الاٰتی تفصیل لاجمال[1]۔ |
اور اب سے لے کر اس وقت تك کہ وہ سب سے جدا ہو کر مرکز عالم سے جا ملے یعنی وقتِ وفات تك جو کچھ حال اس پر آنے والا ہے اس سب کی اس وقت اسے خبر ہے،وہ جو آئے گا اجمال کی تفصیل ہی ہوگا۔ |
(۷۲)امام قاضی عیاض شفا شریف میں فرماتے ہیں:
|
ھذا مع انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان لایکتب ولکنہ اوتی علم کل شیئ حتی قدوردت اٰثار بمعرفتہ حروف الخط وحسن تصویرھا کقولہ لا تمدوا بسم اﷲ الرحمن الرحیم رواہ ابن شعبان من طریق ابن عباس وقولہ الحدیث الاخر الذی روی عن معٰویۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ کان یکتب بین یدیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال لہ الق الدواۃ و حرّف القلم واقم الباء وفرق السین ولا تعور المیم و حسن اﷲ و مدّ الرحمن وجود الرحیم [2]۔ |
یعنی حالانکہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لکھتے نہ تھے مگر حضور کو ہر چیز کا علم عطا ہوا تھا یہاں تك کہ بے شك حدیثیں آتی ہیں کہ حضور کتابت کے حروف پہچانتے تھے اور یہ کہ کس طرح لکھے جائیں تو خوبصورت ہوں گے،جیسے ایك حدیث ابن شعبان نے عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا بسم اﷲ کشش سے نہ لکھو(سین میں دندانے ہوں نِری کشش نہ ہو) دوسری حدیث(مسند الفردوس)میں امیر معاویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہوئی کہ یہ حضور کے سامنے لکھ رہے تھے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دوات میں صوف ڈالو اور قلم پر ترچھا قط دو اور بسم اﷲ کی ب کھڑی لکھو اور اس کے دندانے جدا رکھو اور میم اندھا نہ کردو(اس کے چشمہ کی سفیدی کھلی رہے)اور لفظ اﷲ خوبصورت لکھو اور لفظ رحمن میں کشش ہو(رحمن یا رحمن یا رحمن یا رحمن) اور لفظ رحیم اچھا لکھو۔ |
(۷۳ و ۷۴)امام شعرانی قدس سرہ کتاب الجواہر والدرر نیز کتاب درۃ الغواص میں سید علی خواص
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع