30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے لیے اس کے ماننے پر جھٹ حکمِ شرك جَڑ دیا یعنی خاص صفت ابلِیس کے لیے تو ثابت ہے وہ تو خدا کا شریك ہے،مگر حضور کے لیے ثابت کرو تو مشرك ہو۔
(۷)اس پر بعض غالی اور بڑھے اور صاف کہہ دیا کہ جیسا علم غیب محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو ہے ایسا تو ہر پاگل ہر چوپائے کو ہوتا ہے[1]۔ انّا ﷲ وانّا الیہ راجعون (بے شك ہم اﷲ کے مال ہیں اور ہم کو اُسی کی طرف پھرنا ہے۔ت)
اصل بحث ان کلماتِ ملعونہ کی ہے،خبثاء کا واکاٹ کہ(پینترا بدل کر)اس سے بچتے اور علم کے خاص وغیرخاص ہونے کی بحث بے علاقہ لے دوڑتے ہیں کہ علمِ غیب کو آیات و احادیث نے خاص بخدا بتایا۔فقہاء نے دوسرے کے لیے اس کے اثبات کو کفر کہا ہے،اس کا جواب تو اوپر معروض ہوچکا کہ خدا کے ساتھ خاص وہی علم ذاتی و محیط حقیقی ہے غیر کے لیے اسی کے اثبات کو فقہاء کفر کہتے ہیں۔
علمِ عطائی غیر محیط حقیقی خدا کے لیے ہو ہی نہیں سکتا نہ کہ معاذ اﷲ اس کی صفت خاصہ ہو یہ علم ہم نے نہ غیر خدا کے لیے مانا،نہ وہ نصوص وا قوال ہم پر وارد۔،مگر ان حضرات سے پوچھیے کہ آیات و احادیث حصر و اقوال فقہاء علم عطائی غیر محیط حقیقی کو بھی شامل ہیں یا نہیں۔اگر نہیں تو تمہارا کتنا جنون ہے کہ انہیں ہم پر پیش کرتے ہو ان کو ہمارے دعوے سے کیا منافات ہوئی اور اگر اسے بھی شامل ہیں تو اب بتائیے کہ گنگوہی صاحب آپ ابلِیس کے لیے جو علمِ محیط زمین او ر تھانوی صاحب آپ ہر پاگل ہر چوپائے کے لیے جو علمِ غیب کے قائل ہیں آیا ان کے لیے علم ذاتی حقیقی مانتے ہیں یا اس کاغیر،برتقدیر اول قطعًا کافر ہو،برتقدیر ثانی بھی خود تمہارے ہی منہ سے وہ آیات وہ احادیث و اقوالِ فقہاء تم پر وارد۔اور تم اپنے ہی پیش کردہ دلائل سے خود کافر و مرتد۔
اب کہیے،مفر کدھر ؟
ہاں مفرو ہی ہے کہ ابلِیس اور پاگل اور چوپائے سب توعلم غیب رکھتے ہیں،آیاتِ و احادیث و اقوالِ فقہاء ان کے لیے نہیں،وہ تو صرف محمد رسول کی نفِی علم کے لیے ہیں۔الالعنۃ اﷲ علی الظّٰلمین(خبردار ! ظالموں پر اﷲ تعالٰی کی لعنت ہے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع