30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں۔روزِ اول و روزِ آخر دو۲ حدیں ہیں۔اور جو کچھ دو۲ حدوں کے اندر ہو سب متناہی ہے۔
بالفعل غیر متناہی کا علم تفصیلی مخلوق کو مل ہی نہیں سکتا تو جملہ علوم خلق کو علم الہٰی سے اصلًا نسبت ہونیہی محال قطعی ہے نہ کہ معاذ اﷲ تو ہم مساوات۔
(۳)یوں ہی اس پر اجماع ہے کہ اﷲ عزوجل کے دیئے سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلا م کو کثیر و وافر غیبوں کا علم ہے یہ بھی ضروریاتِ دین سے ہے جو اس کا منکر ہوکافر ہے کہ سرے سے نبوت ہی کا منکر ہے۔
(۴)اس پر بھی اجماع ہے کہ اس فضل جلیل میں محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا حصہ تمام انبیاء و تمام جہان سے اتم و اعظم ہے،اﷲ عزوجل کی عطا سے حبیب اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو اتنے غیبوں کا علم ہے جن کا شمار اﷲ عزوجل ہی جانتا ہے،مسلمانوں کایہاں تك اجماع تھا مگر وہابیہ کو محمد رسول اﷲ صلی علیہ وسلم کی عظمت کس دل سے گوارا ہو۔انہوں نے صاف کہہ دیا کہ۔
(۱)حضور کو دیوار کے پیچھے کی بھی خبر نہیں[1]۔
(۲)وہ اور تو اور اپنے خاتمے کا بھی نہ جانتے تھے[2]۔ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ:
(۳)خدا کے بتائے سے بھی اگر بعض مغیبات کا علم ان کے لیے مانے جب بھی شرك ہے[3]۔
(۴)اس پر قہر یہ کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو تو دیوار کے پیچھے کی بھی خبر نہ مانیں اور ابلِیس لعین کے لیے تمام زمین کا
علم محیط حاصل جانیں[4]۔
(۵)اس پر عذر کہ ابلِیس کی وسعتِ علم نص سے ثابت ہے،فخر عالم کی وسعت علم کی کون سی نص قطعی ہے[5]۔
(۶)پھر ستم،قہر یہ کہ جو کچھ ابلِیس کے لیے خود ثابت مانا محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع