30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳۶)تفسیر انموذج جلیل میں ہے:
|
معناہ لایعلم الغیب بلادلیل الا اﷲ اوبلا تعلیم الا اﷲ اوجمیع الغیب الااﷲ [1]۔ |
آیت کے یہ معنی ہیں کہ غیب کو بلادلیل و بلا تعلیم جاننا یا جمیع غیب کو محیط ہونا یہ اﷲ تعالٰی کے ساتھ خاص ہے۔ |
(۳۷)جامع الفصولین میں ہے:
|
یجاب بانہ یمکن التوفیق بان المنفی ھو العلم بالاستقلال لا العلم بالاعلام اوالمنفی ھو المجزوم بہ لا المظنون ویؤیدہ،قولہ تعالٰی اتجعل فیہا من یفسد فیھا الاٰیۃ لانّہ غیب اخبر بہ الملٰئکۃ ظنا منھم اوبا علام الحق فینبغی ان یکفر لوادعاہ مستقلًا لا لو اخبربہ باعلام فی نومہ اویقظتہ بنوع من الکشف اذلامنافاۃ بینہ وبین الاٰیۃ لما مرّمن التوفیق [2]۔ |
(یعنی فقہانے دعوی علم غیب پر حکمِ کفر کیا اور حدیثوں اور آئمہ ثقات کی کتابوں میں بہت غیب کی خبریں موجود ہیں جن کا انکار نہیں ہوسکتا)اس کا جواب یہ ہے کہ ان میں تطبیق یوں ہوسکتی ہے کہ فقہاء نے اس کی نفی کی ہے کہ کسی کے لیے بذاتِ خود علم غیب مانا جائے،خدا کے بتائے سے علمِ غیب کی نفی نہ کی،یا نفی قطعی کی ہے نہ ظنی کی،اور اس کی تائید یہ آیت کریمہ کرتی ہے،فرشتوں نے عرض کیا تُو زمین میں ایسوں کو خلیفہ کرے گا جو اس میں فساد و خونریزی کریں گے۔ ملائکہ غیب کی خبر بولے مگر ظنًا یا خدا کے بتائے سے،تو تکفیر اس پر چاہیے کہ کوئی بےخدا کے بتائے سے،تو تکفیر اس پر چاہیے کہ کوئی بے خدا کے بتائے علمِ غیب ملنے کا دعوٰی کرے نہ یوں کہ براہِ کشف جاگتے یا سوتے میں خدا کے بتائے سے،ایسا علمِ غیب آیت کے کچھ منافی نہیں۔ |
(۳۸ و ۳۹)ردالمحتار میں امام صاحبِ ہدایہ کی مختارات النوازل سے ہے:
|
لوادعٰی علم الغیب بنفسہ |
اگر بذاتِ خود علم غیب حاصل کرلینے کا دعوٰی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع