30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قابل صرف ہر تقسیم کی قسم اول ہے یعنی علم ذاتی وعلم محیط حقیقی۔
تو آیاتِ واحادیث واقوال علماء جن میں دوسرے کے لیے اثباتِ علم غیب سے انکارہے ان میں قطعًا یہی قسمیں مراد ہیں۔فقہا کہ حکمِ تکفیر کرتے ہیں انہیں قسموں پر حکم لگاتے ہیں کہ آخر مبنائے تکفیر یہی تو ہے کہ خدا کی صفتِ خاصہ دُوسرے کے لیے ثابت کی۔اب یہ دیکھ لیجئے کہ خدا کے لیے علم ذاتی خاص ہے یا عطائی،حاشا ﷲ علم عطائی خدا کے ساتھ ہونا درکنار خدا کے لیے محال قطعی ہے کہ دوسرے کے دیئے سے اسے علم حاصل ہو پھر خدا کے لیے علم محیط حقیقی خاص ہے یا غیر محیط،حاشاﷲ علم محیط خدا کے لیے محال قطعی ہے جس میں بعض معلومات مجہول رہیں،تو علمِ عطائی غیر محیط حقیقی غیر خدا کے لیے ثابت کرنا خدا کی صفتِ خاصہ ثابت کرنا کیونکر ہوا۔تکفیر فقہاء اگر اس طرف ناظر ہو تو معنی یہ ٹھہریں گے کہ دیکھو تم غیر خدا کے لیے وہ صفت ثابت کرتے ہو جو زنہار خدا کی صفت نہیں ہوسکتی لہذا کافر ہو یعنی وہ صفت غیر کے لیے ثابت کرنی چاہیے تھی جو خاص خدا کی صفت ہے،کیا کوئی احمق ایسا اخبث جنون گوارا کرسکتا ہے۔ ولٰکن النجدیۃ قوم لایعقلون(لیکن نجدی بے عقل قوم ہے۔ت)
(۲۹ و ۳۰)امام ابن حجر مکی فتاوٰی حدیثیہ میں فرماتے ہیں:
|
وما ذکرناہ فی الاٰیۃ صرح بہ النووی رحمۃ اﷲ تعالٰی فی فتاواہ فقال معناھا لایعلم ذٰلك استقلا لًا وعلم احاطۃ بکل المعلومات الاّ اﷲ تعالٰی [1]۔ |
یعنی ہم نے جو آیاتِ کی تفسیر کی امام نووی رحمۃ اﷲ تعالٰی نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تصریح کی،فرماتے ہیں آیت کے معنٰی یہ ہیں کہ غیب کا ایسا علم صرف خدا کو ہے جو بذاتِ خود ہو اور جمیع معلومات کو محیط ہو۔ |
(۳۱)نیز شرح ہمزیہ میں فرماتے ہیں:
|
انہ تعالٰی اختص بہ لکن من حیث الاحاطۃ فلا ینافی ذلك اطلاع اﷲ تعالٰی لبعض خواصہ علٰی کثیر من المغیبات حتی من الخمس التی قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیھن خمس لا یعلمھن الا اﷲ [2]۔ |
غیب اﷲ کے لیے خاص ہے مگر بمعنی احاطہ تو اس کے منافی نہیں کہ اﷲ تعالٰی نے اپنے بعض خاصوں کو بہت سے غیبوں کا علم دیا یہاں تك کہ ان پانچ میں سے جن کو نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کو اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع