30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ ناؤ کس نے ڈبوئی،خواجہ خصر نے۔
ابن عباس وصحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لیے علم غیب جانا تو کسی دہن دریدہ وہابی کو کہتے کیا لگتا کہ:
پیراں نمی پرند مریداں مے پرانند
(پیر نہیں اُڑتے بلکہ مرید انہیں اڑاتے ہیں۔ت)
لعنۃ اﷲ علی الظلمین(ظالموں پر اﷲ تعالٰی کی لعنت،ت)
مگر چھٹا غضب:دُھر کی قیامت تو خود اﷲ واحد قہار نے ڈھادی،پورا قہر اس آیۃ کریمہ اور اس کی شانِ نزول نے توڑا۔یہاں اﷲ عزوجل یہ حکم لگارہا ہے کہ جو شخص رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی غیب دانی سے منکر ہو وہ کافر ہے،وہ اﷲ و رسول سے ٹھٹھا کرتا ہے،وہ کلمہ گوئی کرکے مرتد ہوتا ہے،افسوس کہ یہاں اس چوتھی مثل کے سوا کچھ گنجائش نہیں کہ ؎
مازیاران چشم یاری داشتیم خود غلط بود آنچہ ماپندا شتیم
(ہم نے دوستوں سے دوستی کی امید رکھی تھی جو کچھ ہم نے گمان کیا وہ خود غلط تھا۔ت)
بھلا جس خدا کی توحید بنی رکھنے کے لیے نبی سے بگاڑی،رسولوں سے بگاڑی،سب کے علم پر دولتی جھاڑی،غضب ہے وہی خدا وہابیہ کو چھوڑ کر رسول کا ہوجائے،الٹا وہابیہ پر حکم کفر لگائے،سچ ہے اب کسی سے دوستی کا دھرم نہ رہا،معلوم نہیں کہ اب مخالفین اپنے سرگروہوں کا فتوٰی مانتے ہیں یا اﷲ واحد قہار کا،ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ(نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بُلندی و عظمت والے خدا کی طرف سے،ت)
امر سوم
ذاتی و عطائی کی جانب علم کا انقسام اور علماء کی تصریحات
مخالفین کو تو محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے فضائل کریمہ کی دشمنی نے اندھا بہرا کردیا،انہیں حق نہیں سوجھتا مگر تھوڑی سی عقل والا سمجھ سکتا ہے کہ یہاں کچھ بھی دشواری نہیں۔
علم یقینًا اُن صفات میں سے ہے کہ غیر خدا کو بعطائے خدا مل سکتا ہے،توذاتی وعطائی کی طرف اس کا انقسام یقینی،یونہی محیط وغیر محیط کی تقسیم بدیہی،ان میں اﷲ عزوجل کے ساتھ خاص ہونے کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع