30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یاتیہ علم الغیب فلا یبخل بہ علیکم بل یعلّمکم [1]۔ |
علیہ وسلم کو غیب کا علم آتا ہے وہ تمہیں بتانے میں بخل نہیں فرماتے بلکہ تم کو بھی اس کا علم دیتے ہیں۔ |
(۲۰)تفسیر بیضاوی زیر قولہ تعالٰی: " وَعَلَّمْنٰہُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلْمًا ﴿۶۵﴾"[2]ہے۔
|
ای مما یختص بنا ولا یعلم الابتوفیقنا وھو علم الغیوب[3]۔ |
یعنی اﷲ عزوجل فرماتا ہے وہ علم کہ ہمارے ساتھ خاص ہے اور بے ہمارے بتائے ہوئے معلوم نہیں ہوتا وہ علمِ غیب ہم نے خضر کو عطا فرمایا ہے۔ |
(۲۱)تفسیر ابن جریر میں حضرت سیّدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت ہے۔
|
قال انّك لن تستطیع معی صبرا،وکان رجلا یعلم علم الغیب قد علم ذٰلك [4]۔ |
حضرت خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے موسٰی علیہ السلام سے کہا:آپ میرے ساتھ نہ ٹھہر سکیں گے۔خضر علمِ غیب جانتے تھے انہیں علم غیب دیا گیا تھا۔ |
(۲۲)اُسی میں ہے عبداﷲ ابن عباس نے فرمایا:خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا:
|
لم تحط من علم الغیب بما اعلم [5]۔ |
جو علم غیب میں جانتا ہوں آپ کا علم اُسے محیط نہیں۔ |
(۲۳)امام قسطلانی مواہب لدنیہ شریف میں فرماتے ہیں:
|
النبوۃ التی ھی الاطلاع علی الغیب [6]۔ |
نبوت کے معنی ہی یہ ہیں کہ علم غیب جاننا۔ |
(۲۴)اُسی میں نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اسم مبارك نبی کے بیان میں فرمایا:
|
النبوأۃ ماخوذۃ من النباء وھوالخبر ای ان اﷲ تعالٰی اطلعہ علٰی غیبہ [7]۔ |
حضور کو نبی اس لیے کہا جاتا ہے کہ اﷲ تعالٰی نے حضور کو اپنے غیب کا علم دیا۔ |
[1] معالم التنزیل تحت آیۃ ۸۱ /۲۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ /۴۲۲،لباب التاویل فی معانی التنزیل(تفسیر الخازن)۴ /۳۹۹
[2] القرآن لکریم ۱۸ /۶۵
[3] انوارالتنزیل(تفسیرالبیضاوی)تحت آیۃ ۱۸/۶۵ دارالفکربیروت ۳ /۵۱۰
[4] جامع البیان(تفسیر الطبری)تحت آیۃ ۱۸/ ۶۷ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ /۳۲۳
[5] جامع البیان(تفسیر الطبری)تحت آیۃ ۱۸ /۶۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ /۳۲۳
[6] المواھب اللدنیہ المقصد الثانی الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۷
[7] المواھب اللدنیہ المقصد الثانی الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۵ و ۴۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع