30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یطلع العبدعلٰی حقائق الاشیاء ویتجلّی لہ الغیب و غیب الغیب [1]۔ |
نورِ ایمان کی قوت بڑھ کر بندہ حقائق اشیاء پر مطلع ہوتا ہے اور اس پر غیب نہ صرف غیب بلکہ غیب کا غیب روشن ہوجاتا ہے۔ |
(۱۳)یہی علی قاری اسی مرقاۃ میں فرماتے ہیں:
|
الناس ینقسم الٰی فطن یدرك الغائب کالمشاھد وھم الانبیاء والٰی من الغالب علیھم متابعۃ الحس و متابعۃ الوھم فقط وھم اکثر الخلائق فلا بدّلھم من معلم یکشف لھم المغیبات وما ھو الاالنبی المبعوث لھذا الامر [2]۔ |
آدمی دو قسم کے ہوتی ہیں،ایك وہ زیرك کہ غیب کہ مشاہد کی طرح جانتے ہیں اور یہ انبیاء ہیں،دوسرے وہ جن پر صرف حس و وہم کی پیروی غالب ہے اکثر مخلوق اسی قسم کی ہے۔تو ان کو ایك بتانے والے کی ضرورت ہے جو ان پر غیبوں کو کھول دے اور وہ بتانے والا نہیں مگر نبی کہ خود اس کام کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ |
(۱۴ و ۱۵)یہی علی قاری شرح فقہ اکبر میں حضرت ابو سلیمان دارانی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ناقل:
|
الفراسۃ مکاشفۃ النفس ومعاینۃ الغیب وھی من مقامات الایمان [3]۔ |
فراستِ مومن(جس کا ذکر حدیث میں ارشاد ہوا ہے)وہ رُوح کا کشف اورغیب کا معائینہ ہے۔اور یہ ایمان کے مقاموں میں سے ایك مقام ہے۔ |
(۱۶ و ۱۷)امام ابن حجر مکّی کتاب الاعلام،پھر علامہ شامی سل الحسام میں فرماتے ہیں:
|
الخواص یجوزان ان یعلموا الغیب فی قضیۃ او قضایاکما وقع لکثیر منھم و اشتھر [4]۔ |
جائز ہے کہ اولیاء کو کسی واقعے یا وقائع میں علم غیب ملے جیسا کہ ان میں بہت کے لیے واقع ہو کر مشتہر ہوا۔ |
(۱۸ و ۱۹)تفسیر معالم وتفسیر خازن میں زیر قولہ تعالٰی: " وَ مَا ہُوَ عَلَی الْغَیۡبِ بِضَنِیۡنٍ ﴿ۚ۲۴﴾"[5]۔ہے۔
|
یقول انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم |
یعنی اﷲ عزوجل فرماتا ہے:میرے نبی صلی اﷲ تعالٰی |
[1] مرقاۃ المفاتیح کتاب الایمان الفصل الاول تحت حدیث ۲ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۱۹
[2] مرقاۃ المفاتیح کتاب الایمان الفصل الاول تحت حدیث ۲ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۲۰
[3] منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر خوارق العادات الخ مصطفٰی البابی مصر ص ۸۰
[4] الاعلام بقواطع الاسلام مکتبۃ الحقیقۃ بشارع دارالشفقۃ استنبول ترکی ص۳۵۹،سل الحسام رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈیمی لاہور ۲ /۳۱۱
[5] القرآن الکریم ۸۱ /۲۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع