30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۴)اُسی کی نظر ثانی میں ہے:
|
زھر وبھر ممّا تقرر ان شبہۃ مساواۃ علوم المخلوقین طرا اجمعین بعلم ربنا الٰہ العٰلمین ما کانت لتخطر ببال المسلمین [1]۔ |
ہماری تقریر سے روشن و تاباں ہوگیا کہ تمام مخلوق کے جملہ علوم مل کر بھی علمِ الہٰی سے مساوی ہونے کا شبہہ اس قابل نہیں کہ مسلمان کے دل میں اس کا خطرہ گزرے۔ |
(۵)اسی میں ہے:
|
قداقمنا الدلائل القاھرۃ علی ان احاطۃ علم المخلوق بجمیع المعلومات ا لالٰیہۃ محال قطعًا،عقلًا وسمعًا [2]۔ |
ہم قاہر دلیلیں قائم کرچکے کہ علم مخلوق کا جمیع معلومات ِ الہیہ کو محیط ہونا ہونا عقل و شرع دونوں کی رو سے یقینًامحال ہے۔ |
(۶)اسی کی نظر ثالث میں ہے:
|
العلم الذاتی والمطلق والمحیط التفصیلی مختص باﷲ تعالٰی وماللعباد الامطلق العلم العطائی [3]۔ |
علم ذاتی اور بالاستیعاب محیط تفصیلی یہ اﷲ عزوجل کے ساتھ خاص ہیں بندوں کے لیے صرف ایك گُونہ علم بعطائے الہٰی ہے۔ |
(۷)اسی کی نظر خامس میں ہے:
|
لانقول بمساواۃ علم اﷲ تعالٰی ولا بحصولہ بالاستقلال ولا نثبت بعطاء اﷲ تعالٰی ایضًا الا البعض [4]۔ |
ہم نے علمِ الہٰی سے مساوات مانیں نہ غیر کے لیے علم بالذات جانیں،اور عطائے الہٰی سے بھی بعض علم ہی ملنا مانتے ہیں نہ کہ جمیع۔ |
میرا مختصر فتوٰی ابناء المصطفٰی بمبئی مراد آباد میں تین بار ۱۳۱۸ھ سے ہزاروں کی تعداد میں طبع ہو کر شائع ہوا،ایك نسخہ اسی کا کہ رسالہ الکلمۃ العلیا فـــــــ کے ساتھ مطبوع ہوا مرسل خدمت ہے،اس سے بڑھ کر جس امر کا اعتقاد میری طرف کوئی نسبت کرے مفتری کذاب ہے اوراﷲ کے یہاں اس کا حساب۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع