30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دین کا ڈنکا تو طبع ہوچکا ہے۔ملاحظہ سے گزرا ہوگا،الشہاب الثاقب اور رجوم بھی طبع ہونے والا ہے،وہ دیکھئے کس فخر کے ساتھ اس ملعونہ کا نام لیا ہے۔اﷲ اﷲ مسلمانوں،نہ صرف مسلمانوں،دنیا بھر کے عاقلوں سے پوچھ دیکھو کہ کبھی کسی بیحیا سے بیحیا ناپاک،گھناؤنی سے گھناؤنی،بے باك سے بے باک،پاجی،کمینی،گندی قوم نے اپنے خصم کے مقابل بے دھڑك ایسی حرکات کیں۔آنکھیں میچ کر گندا منہ پھاڑ کر ان پر فخر کیے۔انہیں سرِ بازار شائع کیا اور ان پر افتخار ہی نہیں۔بلکہ سُنتے ہیں کہ ان میں کوئی نئی نویلی،حیادار،شرمیلی،بانکی،نکیلی،میٹھی،رسیلی،اچیل،البیلی،چنچل،انیلی،اجودھیا باشی آنکھ یہ تان لیتی اُپجی ہے۔ ع
ناچنے ہی کو جو نکلے تو کہاں کی گھونگھٹ
اس فاحشہ آنکھ نے کوئی نیا غمزہ تراشا اور اس کا نام شہابِ ثاقب رکھا ہے کہ خود اسی کے شیطانی بے حیائی پر شہاب ثاقب ہے اس میں وہ حیا پریدہ گیسو بریدہ افتخار سے استناد،استنادسے اعتماد تك بڑھی ہے،کہیں تو اسی ملعونہ بظلم مسمّات سیف النقی کا آنچل پکڑ کے سندلائی ا ور اس کا بھی سہارا چھوڑ خود اپنی طرف سے وہی بے سُری گائی وہ تازہ غمزہ پاروں تك پہنچا تو اِن شاء اﷲ العزیز اس کی جدا خبر لی جائے گی۔
مسلمانو ! بلکہ ہر مذہب کے عاقلو،کیا ایسوں سے کسی مخاطبہ کا محل رہ گیا کیا اُن کا عجز لاکھوں آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہوگیا۔بدنصیبوں میں کچھ بھی سکت ہوتی تو ایسی ناپاك حرکت جس کی نظیر آریوں،پادریوں ہندوؤں،بت پرستوں کسی میں نہ ملے ہر گز اختیار نہ کی جاتی۔
ارے دم ہے کسی تھانوی،دربھنگی،سرہنگی،سربھنگی،انبٹھی،دیوبندی،نانوتوی،گنگوہی،امرتسری،دہلوی،جنگلی کو ہی میں کہ اُن من گھڑت کتابوں،اُن کے صفحہ،اُن کی عبارتوں کا ثبوت دے اور نہ دے سکے تو کسی علمی بحث یا انسانی بات میں کسی عاقل کے لگنے کے قابل اپنا منہ بناسکے ؎
اسی کو تك پہ یہ لپکا کہ کوئی منہ لگے تیرے
جو تجھ سے بڑھ کے گندا ہو وہ پاجی منہ لگے تیرے
بھلا یہ تو اصغر حسین جی دیوبندی ومرتضٰی حسن جی دربھنگی وحسین احمد جی اجودھیا باشی کے تانگے تھے خود پر انے جہان دیدہ گرم وسردچشیدہ عالیجناب تھانوی صاحب کا چرچہ ملاحظہ ہو۔
ارے بے دم ہے کسی وہابی بے دم میں
اسی ذی العقدہ ۲۸ھ کی ۲۰ تاریخ کو اعلٰیحضرت مجددِ دین و ملت نے"تھانوی صاحب کا چرخہ"کے نام ایك مفاوضہ عالیہ مسمّٰی بنام تاریخی ابحاث اخیرہ(۱۳۲۸ھ)امضا فرمایا جس کے تذکارات نمبر۹میں ارشاد ہو!"یہ مانا کہ جب جواب بن ہی نہ پڑے تو کیا کیجئے کس گھر سے دیجئے مگر والا جنابا! ایسی ایسی صورتوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع