30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیدناغوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے اسم مہر انور سے گھڑی اور بکمال بے ایمانی کہہ دیا کہ مطبوعہ مصر صفحہ ۱۸۔
(۸)صفحہ ۲۰ پر اعلٰیحضرت کے والد ماجد عطر اﷲ مرقدہ،کی مہر مبارك بھی دل سے گھڑلی،اور اس کی یہ صورت بنائی۔
![]()
حالانکہ حضرت والا کی مہرِ اقدس یہ تھی جو بکثرت کتب پر طبع ہوئی ہے۔

(۹)حضرت اعلٰی قدس سرہ،کی وفات شریف ۱۲۹۷ ھ میں واقع ہوئی خبیثہ نے مہر کا سَن ۱۳۰۱ لکھا یعنی وصال شریف کے چار برس بعد مہر کندہ ہوئی۔سچ ہے جب لعنتِ الہٰی کا استحقاق آتا ہے،آنکھ،کان،دل سب پٹ ہوجاتے ہیں۔
(۱۰)تقویت الایمان پر سے اعتراصات بزورِ زبان اٹھانے کو صفحہ ۲۸ پر ایك تقویت الایمان مطبوعہ مصطفائی گڑھی،اور اس سے وہ عبارتیں نقل کردی جس کا دنیا بھر کی کسی تقویت الایمان میں نشان نہیں۔
جب حالت یہ ہے تو اپنی طرف کی فرضی خیالی تصانیف گھڑ دینے کی کیا شکایت۔محمد نقی اجمیری جو کوئی شخص اس کا مصنّف ٹھہرایا ہے،غالبًا یہ بھی خیالی گھڑا یا کم از کم اسی فرضی ہے۔ایك بزرگوار نے پہلے ایك اسی رنگ کا رسالہ حمایتِ اعلٰیحضرت میں لکھ کر یہاں چھاپنے کو بھیجا تھا جس میں مخالفانِ حضرت والا کے کلام ایسے ہی فرضی نقل کیے تھے۔الحمد ﷲ ا ہل سنت ایسی ملعون باتیں کب پسند کریں یہاں سے دھتکار دیا تو مخالف ہو کر دامن وہابیوں کا پکڑا اور ان کو یہ رسالہ سیف النقی بھیجا،جھوٹے معبود کے پجاری تو ایسوں کے بھوکے ہی تھے۔"باسم المعبود الکذاب اللئیم"کہہ کر قبول کرلیا اور اعلان چھاپاکہ بندہ کی معرفت یہ رسالہ اشرف علی وغیرہ بزرگان کی جملہ تصانیف مل سکتی ہیں۔راقم اصغر حسین مدرسہ دیوبند۔
مسلمان اپنی ہی عادت پر قیاس کرتا ہے،گمان تھا کہ وہ حضرات بیحیا سے بے حیا ہوں،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع