30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
" لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللہَ ہُوَ الْمَسِیۡحُ ابْنُ مَرْیَمَ ؕ قُلْ فَمَنۡ یَّمْلِکُ مِنَ اللہِ شَیْـًٔا اِنْ اَرَادَ اَنۡ یُّہۡلِکَ الْمَسِیۡحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہٗ وَمَنۡ فِی الْاَرْضِ جَمِیۡعًا ؕ"[1]۔ |
بے شك کافر ہیں وہ جو مسیح ابن مریم کو خدا کہتے ہیں تم فرمادو کہ کسی کو اﷲ پر کچھ اختیار ہے اگر وہ مسیح ابن مریم اور انکی ماں اور تمام اہل زمین کو فنا کردینا چاہیے۔ |
اعلٰیحضرت نے یہ مبارك رسالہ مکہ معظمہ میں تصنیف فرمایا اکابر علمائے مکہ نے خواہش کرکے اس کی نقلیں لیں اس رسالہ کی قسم اول جناب مفتی برزنجی صاحب نے پڑھوا کر سنی حاش ﷲ ہزار ہزار بار حاش ﷲ زنہار معقول و مقبول نہیں کہ معاذ اﷲ خود حضرت ممدوح ایسے اخبث انجس افترائے ملعون تراشیں یا اُن کا تراشنا روا رکھیں بلکہ ضرور ضرور ان دل کے اندھوں نے اس مقدس مفتی کی ظاہری نابینائی سے فائدہ اٹھایا اور کوئی نہ کوئی کارروائی دھوکے فریب یا تحریف تصحیف کی عمل میں لائی گئی۔
" اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ"[2]۔(افتراء وہی باندھتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے۔ت) اپنے پرانوں
" الْمُرْجِفُوۡنَ فِی الْمَدِیۡنَۃِ "[3]۔(مدینہ میں جھوٹ اڑانے والوں۔ت)کا ترکہ پایا
"وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۲۲۷﴾٪
"[4]۔(اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)
ثالثًا:خبثاء نے کھایا بھی اور کال بھی نہ کٹا:مفتی صاحب نے ان افترائی اقوال پر بھی اتنا ہی حکم دیا کہ غلط اور تفسیرقرآن پر بے دلیل جرأت ہے اشقیاء کے طائفہ بھر کی چھاتیاں پھٹ گئیں کہ ہائے ہائے رسول کے شہر میں خدا کا قہر سر پر اوڑھا اور کچھ کام نہ چلا۔اب رامپور،بریلی،دیوبند،تھانہ بھون،انبیٹھ گنگوہ،دہلی،پنجاب وغیرہا کے سب پنج غیب جڑجڑا کر کمیٹیاں ہوئیں اور رائے پاس ہولی کہ ابلِیسی مسخرو! تم اور غم کرو۔ارے افترا کی مشین تو تمہارے گھر چل رہی ہے۔مجددِ ملت پر افترا جوڑے تھے حضرت مفی صاحب پر جوڑتے ہوئے کیوں مرے جاتے ہو،بنا برآں پہلے افتراء میں وہ جو علوم ذات و صفاتِ الہٰی کا استثناء رکھا تھا اپنے ہی چھپے ہوئے رسالے غایۃ المامول سے اسے بھی اڑادیا جناب منور علی رامپوری اینڈ کو جو اس رسالہ غایۃ المامول کے لانے والے چھانپے والے ہیں مسلمان سب سے پہلے انہیں کی دن دہاڑے چوری اور سر زوری ملاحظہ فرمائیں۔رسالے کے صفحہ ۳ پر مفتی صاحب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع