30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اعمالہم(ان پر تباہی پڑے اور اﷲ انکے اعمال برباد کرے۔ت)
ثانیًا:پیش خویش یہ منصوبےگانٹھ کر ایك مقہور مخصوم آثم ماثوم عــــــہ زنگی کافور موسوم کو(کہ مکہ معظمہ میں بعون اﷲ تعالٰی خائب و خاسر و ذلیل و مخصوم ہوچکا تھا یہاں تك کہ علمائے کرام حرم شریف نے اس کا نام ہی بدل کر مخصوم رکھ دیا تھا۔)متعین کیا کہ مکہ معظمہ میں تو چھل پیچ نہ چلا مجدد دین و ملت کے انوار علم نے حرم شریف کے کُوچے کو جگمگادیا ہے یہاں کے علمائے کرام بعون الملك العلام فریب میں نہ آئیں گے سرکار اعظم مدینہ طیبہ میں ہنوز"الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ(۱۳۲۳ھ)" کا آفتاب طالع نہیں ہوا اور مفتی شافعیہ کو خمس میں اشتباہ ہے ہی وہاں جل کھیلیں،مخصوم ماثوم ہے،ذی ہوش سمجھا کہ اس قدر سے اپنی جگری چہیتوں کفر و ارتداد کی مصیبت بیتون کے اندرونی گہرے زخم جانکاہ کا کیا مرہم ہوگا کہ مسئلہ خود اہلسنت کا خلافیہ ہے بڑھ سے بڑھ اتنا ہوگا کہ مفتی صاحب اپنا قول مختار لکھ دیں اور دوسرے قول کو خلافِ تحقیق بتائیں،یہ تو آئمہ و علماء میں صحابہ کرام کے وقت سے آج تك برابر ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا اس سے کیا کام چلے گا،لہذا اس میں یہ نمك مرچ ملائے گئے کہ اعلٰیحضرت مجدد دین و ملت نے اپنے رسالہ میں علم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو سوا علومِ ذات و صفات الٰہی کے جملہ معلوماتِ الہیہ غیر متناہیہ بالفعل کو بتفصیل تام محیط ٹھہرایا اور اس احاطہ میں علمِ الہٰی و علم نبوی میں صرف قدمِ و حدوث کا فرق بتایا ہے۔
مفتریوں پر کمالِ قہرِ الہٰی کا ثمر یہ کہ یہ من گھڑت باتیں رسالہ اعلٰیحضرت کی طرف نسبت کیں جس میں صراحۃً ان اباطیل کا روشن رَد ہے جس کا ذکر بعونہ تعالٰی عنقریب آتا ہے رسالے میں اگر ان باتوں کی نسبت ہاں ونہ،کچھ نہ ہوتا تو ان کا اس کی طرف منسوب کرنا سخت خبیث افتراء تھا نہ کہ رسالے میں بتصریح نام روشن و و اضح طور پر جن باتوں کا رد ہوا انہیں کو اس کی طرف نسبت کریا جائے اس کی نظیر یہی ہوسکتی ہے کہ کوئی معلون کہے قرآن عظیم میں عیسٰی مسیح کو خدا لکھا ہے " اِنَّ اللہَ ہُوَ الْمَسِیۡحُ ابْنُ مَرْیَمَ ؕ [["[1]۔(بے شك اﷲ مسیح ابن مریم ہی ہے۔ت) اس سے یہی کہا جائے گا کہ اوملعون مجنون ابلِیس کے مفتون سوجھ کر قرآن عظیم میں ایسا فرمایا ہے یا اس کا رَد ارشا د ہوا ہے کہ:
عــــــہ:ماثوم مجرم سزایافتہ کہ خدائے کیفر کردارش بکنارش نہاد ۱۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع