30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علم اقدس سے ہر گز وسیع تر نہیں۔
(۴)جو علم اﷲ عزوجل کی صفت خاصہ ہے جس میں اُس کے حبیب محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو شریك کرنا بھی شرك ہو وہ ہرگز ابلِیس کے لیے نہیں ہوسکتا جو ایسا مانے قطعًا مشرك کافر ملعون بندہ ابلِیس ہے۔
(۵)زید و عمرو ہر بچے پاگل،چوپائے کو علمِ غیب میں محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے مماثل کہنا حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی صریح توہین اور کھلا کفر ہے،یہ سب مسائل ضروریاتِ دین سے ہیں اور اُن کا منکر ان میں ادنٰی شك لانے والا قطعًا کافر،یہ قسمِ اول ہوئی۔
(۶)اولیاء کرام نفعنا اﷲ تعالٰی ببرکاتھم فی الدارین کو بھی کچھ علومِ غیب ملتے ہیں مگر بوساطت رسل علیھم الصلٰوۃ والسلام۔معتزلہ خذلھم اﷲ تعالٰی کہ صرف رسولوں کے لیے اطلاع غیب مانتے اور اولیاء کرم رضی اﷲ تعالٰی عنھم کا علومِ غیب کا اصلًاحصہ نہیں مانتے گمراہ ومبتدع ہیں۔
(۷)اﷲ عزوجل نے اپنے محبوبوں خصوصًا سید المحبوبین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلیہم وسلم کو غیوب خمسہ سے بہت جزئیات کا علم بخشا جو یہ کہے کہ خمس میں سے کسی فرد کا علم کسی کو نہ دیا گیا ہزار ہا احادیث متواترۃ المعنٰی کا منکر اور بدمذہب خاسر ہے،یہ قسم دوم ہوئی۔
(۸)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو تعیینِ وقتِ قیامت کا بھی علم ملا۔
(۹)حضور کو بلا استثناء جمیع جزئیات خمس کا علم ہے۔
(۱۰)جملہ مکنونات قلم و مکتوبات لوح بالجملہ روزِ اول سے روزِ آخر تك تمام ماکان ومایکون مندرجہ لوحِ محفوظ اور اس سے بہت زائد کا عالم ہے جس میں ماورائے قیامت تو جملہ افراد خمس داخل اور دربارہ قیامت اگر ثابت ہو کہ اس کی تعیین وقت بھی درج لوح ہے تو اسے بھی شامل،ورنہ دونوں احتمال حاصل۔
(۱۱)حضور پُرنور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو حقیقتِ روح کا بھی علم ہے۔
(۱۲)جملہ متشابہات قرآنیہ کا بھی علم ہے،یہ پانچوں مسائل قسم سوم سے ہیں کہ ان میں خود علماء و آئمہ اہل سنت مختلف رہے ہیں جس کا بیان بعونہ تعالٰی عنقریب واضح ہوگا ان میں مثبت و نافی کسی پر معاذ اﷲ کفر کیا معنی ضلال یا فسق کا بھی حکم نہیں ہوسکتا جب کہ پہلے سات مسئلوں پر ایمان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع