30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غیب نہیں جانتے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں مگر اﷲ اور انہیں خبر نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ت)بینوا توجروا (بیان فرمائیے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
زید عمرو کچھ کہیں مگر قرآن مجید وا حادیث صحیحہ کا ارشاد یہ ہے کہ حضور اقدس علیہ افضل الصلوۃ والسلام کو روزِ ازل سے روزِ آخر تك کے تمام غیوب کا علم عطا فرمایا گیا یہ بے شك حق ہے کہ انبیاء غیب اُسی قدر جانتے ہیں جتنا اُن کو ان کے رب نے بتایا بلاشبہہ بے اس کے بتائے کوئی نہیں جان سکتا اور یہ بھی حق ہے کہ احیانًا بتایا گیا کہ وحی حینًا بعد حین ہی اُترتی نہ کہ وقتِ بعثت سے وقتِ وفات تك ہر آن علی الاتصال،مگر اس سے یہ سمجھ لینا کہ گنتی کی چیزیں معلوم ہوئیں اور ان کے علم کو قلیل و ذلیل قرار دینا مسلمان کا کام نہیں،اسی احیانًا تعلیم میں شرق و غرب وعرش و فرش کے ذرّہ ذرّہ کا حال روزِ ازل سے روزِ آخر تك تمام منکشف کردیا،آیہ کریمہ میں علم ذاتی کی نفی ہے کہ کوئی شخص بے خدا کے بتائے غیب نہیں جانتا،یہ بے شك حق ہے اور اسی کے معارضہ کو حنفیہ نے کفر کہا ہے ورنہ یہ کہ خدا کے بتائے سے بھی کوئی نہیں جانتا اس کا انکار صریح کفر اور بکثرت آیات کی تکذیب ہے۔اس مسئلہ کی تفصیل انباء المصطفٰی و خالص الاعتقاد میں دیکھا چاہیے کہ ایمان درست ہو،وھوتعالٰی اعلم۔
_________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع