30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تعالٰی لانہ یتبادر منہ تعلق علمہ بہ ابتداء فیکون تنا قضا واما اذا قید وقیل اعلمہ اﷲ تعالٰی الغیب او اطلعہ علیہ فلا محذور فیہ[1]۔ |
کہ اس سے غیر اﷲ کے علم کاغیب کے ساتھ ابتداء(بالذات) متعلق ہونا متبادر ہوتا ہے تو اس طرح تناقض لازم آتا ہے لیکن اگر علم غیب کے ساتھ کوئی قید لگادی جائے اور یوں کہا جائے کہ اﷲ تعالٰی نے اس کو غیب کا علم عطا فرمادیا ہے یا اس کو غیب پر مطلع فرمادیا ہے تو اس صورت میں کوئی ممانعت نہیں۔(ت) |
زید کا قول کذب صریح و جہل قبیح ہے،کذب تو ظاہر کہ بے ممانعت شرعی اپنی طرف سے عدم جواز کا حکم لگا کر شریعت و شارع علیہ الصلوۃ والسلام اور رب العزۃ جل و علا پر افتراء کررہا ہے۔
|
قال اﷲ تعالٰی" وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَّ ہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوۡا عَلَی اللہِ الْکَذِبَ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفْتَرُوۡنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾ؕمَتٰعٌ قَلِیۡلٌ ۪ وَّلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۱۷﴾"[2]۔ |
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں،یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اﷲ تعالٰی پر جھوٹ باندھو،بے شك جو اﷲ تعالٰی پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا،تھوڑا برتنا ہے اور انکے لیے دردناك عذاب ہے۔ت) |
اور جہل فاضح یہ کہ عالم الغیب صفت مختصہ باری تعالٰی ہونے پر بالواسطہ و بالعطا کہنے کے عدمِ جواز کو متفرع کررہا ہے شاید اس کے نزدیك علم غیب بالواسطہ،وبالعطا خاصہ باری تعالٰی ہے یعنی دوسرے کے دیئے سے علم غیب خاص اﷲ تعالٰی کو ہوتا ہے اس کے غیر کو علم غیب بالذات بلاواسطہ ہے ایسا ہے تو اس سے بڑھ کر اور کفرِ اشد کیا ہے۔گنگوہی صاحب نے تو نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو علم غیب بالذات بے عطائے الٰہی ملنے کے اعتقاد کو کفر نہ مانا تھا صرف اندیشہ کفر کہا تھا ان کے فتاوٰی حصہ اول صفحہ ۸۳ میں ہے:
جو یہ عقیدہ رکھے کہ خود بخود آپ کو علم تھا بدون اطلاق حق تعالٰی کے تو اندیشہ کفر کا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع