30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۴۵: از موضع پارہ پرگنہ مورانواں ضلع اناؤ مسئولہ محمد عبدالرؤف صاحب ۳ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کا عقیدہ ہے کہ چونکہ عالم الغیب صفت مختصہ باری تعالٰی ہے لہذا آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت لفظ عالم الغیب بالواسطہ یا بالعطایا کہنا بھی جائز نہیں اور نہ حضور پر نور کو کل علم غیب یعنی از روزِ ازل تا ابد شبِ معراج میں عطا فرمایا گیا تھا۔البتہ بعض بعض علوم غیبیہ کا قائل ہے اور اپنے عقیدہ کی دلیل میں چند واقعات بطور اثبات نوشتہ علمائے دیوبند پیش کرتا ہے،مثلًا سورہ کہف کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بجواب اس سوال کے کہ اصحابِ کہف کس مدت تك سوئے تھے،فرمایا کل بتلاؤں گا،اور لفظ ان شاء اﷲ تعالٰی نہ کہنے کی وجہ سے اٹھارہ روز تك وحی کا نزول نہ ہوا،اگر علمِ غیب ہوتا تو توقف نہ فرماتے۔
دوئم۲ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کا حادثہ کہ کفار مکہ نے آپ کو متہم کیا اور آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم طلاق دینے پر آمادہ ہوگئے۔اور اگر آپ کو علم ہوتا تو تذبذب کیوں ہوتا،وحی کے نزول پر آپ مطمئن ہوئے اور کہتا ہے کہ اگر کل علمِ غیب عطا فرمایا جاتا تو پھر وحی آنے کی کیا ضرورت تھی؟
(عقیدہ عمرو)برعکس اس کے عمرو کا عقیدہ یہ ہے کہ حضور پر نور سید یوم النشور حضرت محمد مصطفٰی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر شب معراج میں اﷲ رب العزت نے جملہ اولین و آخرین مانند آفتابِ درخشاں روشن کردیئے تھے اور تمام علم ماکان ومایکون سے صدرِ مبارك حضور پُرنور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو جلوہ افروز کردیا تھا اور جن باتوں سے آپ نے جواب نہیں دیا بلکہ سکوت اختیار فرمایا ان کو خدا اور حبیبِ خدا کے درمیانی اسرار مخفی کی جانب مبذول کرتا ہے،اور روز اول سے لے کر یوم الحشر کے تمامی علوم کو حضور سرور کائنات و مفخر موجودات صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے علوم کے سمندر کی ایك لہر کی برابر تصور کرتا ہے۔
الجواب:
اس مسئلہ میں بفضلہ تعالٰی یہاں سے متعدد کتابیں تصنیف ہوئیں۔الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ پر اکابر علمائے مکہ معظمہ و مدینہ طیبہ وغیرہ ہا بلادِ اسلامیہ نے مہریں کیں،گرانقدر تقریظیں لکھیں خالص الاعتقاد دس سال سے شائع ہوا انباء المصطفٰی بیس سال سے ہزار کی تعداد میں بمبئی و بریلی و مراد آباد میں چھپ کر تمام ملك میں شائع ہوا اور بحمدہ تعالٰی سب کتابیں آج تك لاجواب ہیں، مگر وہابیہ اپنی بے حیائی سے باز نہیں آتے۔علم غیب عطا ہونا اور لفظ عالم الغیب کا اطلاق اور بعض اجلہ اکابر کے کلام میں اگرچہ بندہ مومن کی نسبت صریح لفظ یعلم الغیب وارد ہے کما فی مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع