30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تجھے سعادت مند بنائے۔ت)میں کوئی خاص شخص مراد نہیں۔خود قرآن عظیم میں فرمایا:
|
" اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یَنْہٰی ۙ﴿۹﴾ عَبْدًا اِذَا صَلّٰی ﴿ؕ۱۰﴾ اَرَءَیۡتَ اِنۡ کَانَ عَلَی الْہُدٰۤی ﴿ۙ۱۱﴾ اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰی ﴿ؕ۱۲﴾"[1]۔ |
(ابوجہل لعین نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو نماز سے روکنا چاہا اس پر یہ آیتِ کریمہ اتریں)کہ کیا تُو نے دیکھا اُسے جو روکتا ہے بندے کو جب وہ نماز پڑھے،بھلا دیکھو تو اگر وہ بندہ ہدایت پر ہو یا پرہیزگاری کا حکم فرمائے۔ |
یہاں بندے سے مراد حضور اقدس ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم،اور غائب کی ضمیریں حضور کی طرف ہیں اور مخاطب کی ہر سامع کی طرف،بلکہ فرماتا ہے:
|
" فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعْدُ بِالدِّیۡنِ ؕ﴿۷﴾"[2]۔ |
(ان روشن دلیلوں کے بعد)کیا چیز تجھے روزِ قیامت کے جھٹلانے پر باعث ہورہی ہے۔ |
یہ خطاب خاص کفارسے ہے بلکہ ان میں بھی خاص منکران قیامت مثل مشرکین آریہ و ہنود سے،یونہی دونوں سورہ کریمہ میں کاف خطاب ہر سامع کے لیے ہے کہ اے سننے والے اپنے اور اپنے سب مسلمان بھائیوں کے گناہ کی معافی مانگ۔
(۹)بلکہ آیت محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں تو صاف قرینہ موجود ہے کہ خطاب حضور سے نہیں،اس کی ابتداء یوں ہے:
|
" فَاعْلَمْ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنۡۢبِکَ وَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِؕ"۔[3] |
جان لے کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنی اور مسلمان مردوں اور عورتوں کی معافی چاہ۔ |
تو یہ خطاب اُس سے ہے جو ابھی لا الٰہ الا اﷲ نہیں جانتا ورنہ جاننے والے کو جاننے کا حکم دینا تحصیل حاصل ہے،تو معنی یہ ہوئے کہ اے سُننے والے جسے ابھی تو حید پر یقین نہیں کسے باشد تو حید پر یقین لا اور اپنے اور اپنے بھائی مسلمانوں کے گناہ کی معافی مانگ،تتمہ آیت میں اس عموم کو واضح فرمادیا کہ:
|
" وَ اللہُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَکُمْ وَ مَثْوٰىکُمْ ﴿۱۹﴾٪"[4]۔ |
اﷲ جانتا ہے جہاں تم سب لوگ کروٹیں لے رہے ہو،اور جہاں تم سب کا ٹھکانا ہے۔ |
اگر فاعلم میں تاویل کرے تو ذنبك میں تاویل سے کون مانع ہے اور اگر ذنبك میں تاویل نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع