30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شکر میں ایسی کمی ہر گز گناہ بمعنی معروف نہیں بلکہ لازمہ بشریت ہے نعمائے الہیہ ہر وقت ہر لمحہ ہر آن ہر حال میں متزائد ہیں خصوصًا خاصوں پر خصوصًا اُن پر جو سب خاصوں کے سردار ہیں اور بشر کو کسی وقت کھانے پینے سونے میں مشغولی ضرور،اگرچہ خاصوں کے یہ افعال بھی عبادت ہی ہیں مگر اصل عبادت سے تو ایك درجہ کم ہیں اس کمی کو تقصیر اور اس تقصیر کو ذنب سے تعبیر فرمایا گیا۔
(۵)بلکہ خود نفس عبارت گواہ ہے کہ یہ جسے ذنب فرمایا گیا ہر گز حقیقۃً ذنب بمعنی گناہ نہیں۔
ما تقدّم سے کیا مراد لیا،وحی اترنے سے پیشتر کے،اور گناہ کسے کہتے ہیں،مخالفتِ فرمان کو،اور فرمان کا ہے سے معلوم ہوگا،وحی سے۔تو جب تك وحی نہ اتری تھی فرمان کہاں تھا جب فرمان نہ تھا مخالفتِ فرمان کے کیا معنی،اور جب مخالفتِ فرمان نہیں تو گناہ کیا۔
(۶)جس طرح ماتقدم میں ثابت ہولیا کہ حقیقۃً ذنب نہیں۔یوں ہی ماتاخر میں نقد و قت ہے قبل ابتدائے نزول فرمان جو افعال جائز ہوئے کہ بعد کو فرمان ان کے منع پر اترا اور انہیں یوں تعبیر فرمایا گیا حالانکہ ان کا حقیقہً گناہ ہونا کوئی معنی ہی نہ رکھتا تھا۔یونہی بعدنزول وحی و ظہور رسالت بھی جو افعال جائز فرمائے اور بعد کو ان کی ممانعت اُتری اسی طریقے سے ان کو ما تاخر فرمایا کہ وحی بتدریج نازل ہوئی نہ کہ دفعۃً۔
(۷)نہ ہر تفسیر معتبر نہ ہر مفسر مصیب،مشرك کا ظلم ہے کہ نام لے آیات کا اور دامن پکڑے نا معتبر تفسیرات کا۔ایسا ہی ہے تو وہ لغویات و ہزلیات و فحشیات کہ ایك مہذب آدمی کو انہیں بکتے بلکہ دوسرے آدمی سے نقل کرتے عار آئے جو آریہ کے ویدوں میں اہلی گہلی پھررہی ہیں اور خود بندگانِ وید نے اس کے ترجموں میں وہی حد بھر کے گندے گھناؤنے فحش لکھے ان سے آریہ کی جان کیونکر چھوٹے گی مثلًا یجروید میں ایشور کی بیماری کا حال لکھا کہ بستر بیماری پر پڑے پکار رہے ہیں کہ اوسیکڑوں کی طرح کی عقل و علم رکھنے والو ! تمہاری سیکڑوں ہزاروں طرح کی بوٹیاں ہیں ان میں سے میرے شریر کو نروگ کرو،اے اماں جان ! تو بھی ایسا ہی کر نیز یہ بھی فرمارہے ہیں کہ اے بوٹیوں کے مانند فائدہ دینے والی دیوی ماتا ! میں فرزند تجھ کو بہت نصیحت کرتا ہوں ماما جی کہتی اے لائق بیٹے! میں والدہ تیرے گھوڑے گائیں،زمین،کپڑے،جان کی حفاظت و پرورش کرتی تو مجھے نصیحت مت کرو اسی یجروید کے ادھیائے ۳۱ منتر اول میں ایشور کے متعلق ہے اس کے ہزار سر ہیں ہزار آنکھیں ہیں ہزار پاؤں ہیں زمین پر وہ سب جگہ ہے الٹا سیدھا تب بھی دس انگلی کے فاصلے پر ہر آدمی کے آگے بیٹھا ہے۔نیز ویدوں میں اس کا نام سروبیاپك ہے یعنی وہ ہر جگہ سمایا ہوا،ہر چیز میں رما ہوا،ہر خلا میں گھسا ہوا ہے،ہر جانور کی مقعد ہر مادہ کی فرج ہر پاخانہ کی ڈھیری میں ایشور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع