30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
و جملہ علومِ الہیہ و معارفِ نامتناہیہ کو جامع ہے جن میں سے ایك ایك ٹکڑے کا نام طریقت و معرفت ہے و لہذا باجماعِ قطعی جملہ اولیائے کرام کے تمام حقائق کو شریعتِ مطہرہ پر عرض کرنا فرض ہے،اگر شریعت کے مطابق ہوں حق و قبول ہیں ورنہ مردود و مخذول(مطرود و نامقبول)
(تو یقینًا قطعًا شریعت ہی اصل کار ہے،شریعت ہی مناط و مدار ہے شریعت ہی محك و معیار ہے اور حق و باطل کے پرکھنے کی کسوٹی)
شریعت راہ کو کہتے ہیں اور شریعت محمدیہ علٰی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ کا ترجمہ ہے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی راہ۔اور یہ قطعًا عام و مطلق ہے نہ کہ صرف چند احکامِ جسمانی سے خاص۔
یہی وہ راہ ہے کہ پانچوں وقت،ہر نماز ہر رکعت میں اس کا مانگنا اور اس پر صبر و استقامت کی دُعا کرنا ہر مسلمان پر واجب فرمایا ہے کہ " اِہۡدِ نَا الصِّرٰطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَۙ﴿۵﴾ "[1]۔ (ہم کو سیدھا راستہ چلا)ہم کو محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی راہ پر چلا،ان کی شریعت پر ثابت قدم رکھ۔
یونہی طریق،طریقہ،طریقت راہ کو کہتے ہیں نہ کہ پہنچ جانے کو،تو یقینًا طریقت بھی راہ ہی کا نام ہے،اب اگر وہ شریعت سے جدا ہو تو بشہادت قرآن عظیم خدا تك نہ پہنچائے گی بلکہ شیطان تك جنت تك نہ لے جائے گی بلکہ جہنم میں کہ شریعت کے سوا سب راہوں کو قرآن عظیم باطل و مردود فرماچکا۔
لاجرم ضرور ہوا کہ طریقت یہی شریعت ہے اسی راہ روشن کا ٹکڑا ہے۔اس کا اس سے جدا ہونا محال و ناسزاہے،جو اسے شریعت سے جدا مانتا ہے اسے راہِ خدا سے توڑ کر راہِ ابلِیس مانتا ہے مگر حاشا،طریقیت حقّہ راہِ ابلِیس نہیں قطعًا راہِ خدا ہے)نہ بندہ کسی وقت کیسی ہی ریاضات و مجاہدات بجالائے۔(کیسی ہی ریاضتوں،مجاہدوں اور چِلّہ کشیوں میں وقت گزارا جائے۔اس رُتبہ تك پہنچے کہ تکالیف شرع(شریعت و مطہرہ کے فرامین و احکامِ امرونہی)اس سے ساقط ہوجائیں اور اسے اسپ بے لگام و شُتر بے زمام کرکے چھوڑ دیا جائے۔
قرآن عظیم میں فرمایا:" اِنَّ رَبِّیۡ عَلٰی صِرٰطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ ﴿۵۶﴾"[2]۔بے شك اسی سیدھی راہ پر میرا رب ملتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع