30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور بالخصوص قرآنِ عظیم بلکہ حدیث ہی میں تصریح صریح ہونے کی تو اصلًا ضرورت نہیں حتّٰی کہ مرتبہ اعلٰی اعنی ضروریاتِ دین میں بھی۔
بہت باتیں ضروریاتِ دین سے ہیں جن کا منکر یقینًا کافر مگر بالتصریح ان کا ذکر آیات و احادیث میں نہیں،مثلًا باری عزوجل کا جہل محال ہونا۔
قرآن عظیم میں اﷲ عزوجل کے علم و احاطہ کا لاکھ جگہ ذکر ہے مگر امتناع و امکان کی بحث کہیں نہیں پھر کیا جو شخص کہے کہ واقع میں تو بے شك اﷲ تعالٰی سب کچھ جانتا ہے،عالم الغیب و الشہادۃ ہے،کوئی ذرّہ اس کے علم سے چھپا نہیں۔
مگر ممکن ہے کہ جاہل ہوجائے تو کیا وہ کافر نہ ہوگا کہ اس کے امکان کا سلبِ صریح قرآن میں مذکور نہیں۔حاش ﷲ ! ضرور کافر ہے اور جو اسے کافر نہ کہے خود کافر،تو جب ضروریاتِ دین ہی کے ہر جزئیہ کی تصریح صریح،قرآن و حدیث میں ضرور نہیں تو ان سے اُتر کر اور کسی درجے کی بات پر یہ مڑ چڑا پن کہ ہمیں تو قرآن ہی میں دکھاؤ ورنہ ہم نہ مانیں گے،نِری جہالت ہے یا صریح ضلالت،مگر جنون و تعصب کا علاج کسی کے پاس نہیں۔
تو خوب کان کھول کر سُن لو اور لوحِ دل پر نقش رکھو کہ جسے کہتا سنو ہم اماموں کا قول نہیں جانتے ہمیں تو قرآن و حدیث چاہیے۔جان لو کہ یہ گمراہ ہے،اور جسے کہتا سنو کہ ہم حدیث نہیں جانتے ہمیں صرف قرآن درکار ہے سمجھ لو کہ یہ بددین،دینِ خدا کا بدخواہ ہے۔
مسلمانو ! تم ان گمراہوں کی ایك نہ سُنو۔اور جب تمہیں قرآن میں شبہہ ڈالیں تم حدیث کی پناہ لو۔اگر حدیث میں ایں و آں نکالیں تم ائمہ دین کا دامن پکڑو۔اس درجے پر آکر حق و باطل صاف کھل جائے گا اور ان گمراہوں کا اڑایا ہوا،سارا غبار حق کے برستے ہوئے بادلوں سے دھل جائے گا اور اس وقت یہ ضال،مضل طائفے بھاگتے نطر آئیں گے۔
" کَاَنَّہُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنۡفِرَۃٌ ﴿ۙ۵۰﴾ فَرَّتْ مِنۡ قَسْوَرَۃٍ ﴿ؕ۵۱﴾"[1]۔ (گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں کہ شیر سے بھاگے ہوں)(الصارم الربانی ملخصًا)
عقیدہ عاشرہ ۱۰ ____________ شریعت و طریقت
شریعت و طریقت،دو راہیں متبائن نہیں(کہ ایك دوسرے سے جدا اور ایك دوسرے کے خلاف ہوں)بلکہ بے اتباع شریعت،خدا تك وصول محال،شریعت تمام احکامِ جسم و جان و روح قلب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع