30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فائدہ جلیلہ
مانی ہوئی باتیں چار۴ قسم ہوتی ہیں۔
(۱)ضروریاتِ دین:ان کا ثبوت قرآن عظیم یا حدیث متواتر یا اجماع قطعیات الدلالات واضحۃ الافادات سے ہوتا ہی جن میں نہ شبہے کی گنجائش نہ تاویل کو راہ۔اور ان کا منکر یا ان میں باطل تاویلات کا مرتکب کافر ہوتا ہے۔
(۲)ضروریاتِ مذہبِ اہلسنت و جماعت:ان کا ثبوت بھی دلیل قطعی سے ہوتا ہے۔مگر ان کے قطعی الثبوت ہونے میں ایك نوعِ شبہہ اور تاویل کا احتمال ہوتا ہے اسی لیی ان کا منکر کافر نہیں بلکہ گمراہ،بذمذہب،بددین کہلاتا ہے۔
(۳)ثا بتات محکمہ:ان کے ثبوت کو دلیل ظنی کافی،جب کہ اس کا مفاد اکبر رائے ہو کہ جانب خلاف کو مطروح و مضمحل اور التفاتِ خاص کے ناقابل بنادے۔اس کے ثبوت کے لیے حدیث احاد،صحیح یا حسن کافی،اور قول سوادِ اعظم و جمہور علماء کا سندِ وافی،فانّ ید اﷲ علی الجماعۃ(اﷲ تعالٰی کا دستِ قدرت جماعت پر ہوتا ہے۔ت)
ان کا منکر وضوحِ امر کے بعد خاطی و آثم خطاکارو گناہگار قرار پاتا ہے،نہ بددین و گمراہ نہ کافر و خارج از اسلام
(۴)ظنّیات محتملہ:ان کے ثبوت کے لیے ایسی دلیل ظنّی بھی کافی،جس نے جانبِ خلاف کے لیے بھی گنجائش رکھی ہو،ان کے منکر کو صرف مخطی و قصور وارکہا جائے گا نہ گنہگار،چہ جائیکہ گمراہ،چہ جائیکہ کافر۔
ان میں سے ہر بات اپنے ہی مرتبے کی دلیل چاہتی ہے جو فرقِ مراتب نہ کرے اور ایك مرتبے کی بات کو اس سے اعلٰی درجے کی دلیل مانگے وہ جاہل بے وقوف ہے یا مکّار فیلسوف ع
ہر سخن و قتے ہر نکتہ مقامے دارد
(ہر بات کا کوئی وقت اور ہر نکتے کا کوئی خاص مقام ہوتا ہے۔ت)
اور ع
گرفرق مراتب نہ کنی زندیقی
(اگر تُو مراتب کے فرق کو ملحوظ نہ رکھے تو زندیق ہے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع