30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جانب حجاز رخصت کیا۔خود حضرت علی نے دور تك مشایعت کی،ہمراہ رہے،امام حسن میلوں تك ساتھ گئے۔چلتے وقت حضرت صدیقہ نے مجمع میں اقرار فرمایا کہ مجھ کو علی سے نہ کسی قسم کی کدورت پہلے تھی اورنہ اب ہے۔ہاں ساس،داماد(یا دیور،بھاوج)میں کبھی کبھی جو بات ہوجایا کرتی ہے اس سے مجھے انکار نہیں۔
حضرت علی نے یہ سن کر ارشاد فرمایا لوگو ! حضرت عائشہ سچ کہہ رہی ہیں خدا کی قسم مجھ میں اور ان میں اس سے زیادہ اختلاف نہیں ہے،بہرحال خواہ کچھ ہو یہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی زوجہ ہیں(اور ام المومنین)۔
اﷲ اﷲ ! ان یارانِ پیکر صدق و صفا میں باہمی یہ رفق و مودت اور عزت و اکرام اور ایك دوسرے کے ساتھ یہ معاملہ تعظیم و احترام،اور ان عقل سے بیگانوں اور نادان دوستوں کی حمایت علی کا یہ عالم کہ ان پر لعن طعن کو اپنا مذہب اور اپنا شعار بنائیں اور ان سے کدورت و دشمنی کو مولٰی علی سے محبت و عقیدت ٹھہرائیں۔ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
مسلمانانِ اہلسنت اپنا ایمان تازہ کرلیں اور سن رکھیں کہ اگر صحابہ کرام کے دلوں میں کھوٹ،نیتوں میں فتور اور معاملات میں فتنہ و فساد ہو تو رضی اﷲ عنھم کے کوئی معنی ہی نہیں ہوسکتے۔
صحابہ کرام کے عند اﷲ مرضی و پسندیدہ ہونے کے معنی یہی تو ہیں کہ وہ مولائے کریم ان کے ظاہر و باطن سے راضی،ان کی نیتوں اور مافی الضمیر سے خوش ہے،اور ان کے اخلاق و اعمال بارگاہِ عزت میں پسندیدہ ہیں۔اسی لیے ارشاد فرمایا ہے کہ:
" وَ لٰکِنَّ اللہَ حَبَّبَ اِلَیۡکُمُ الْاِیۡمٰنَ وَ زَیَّنَہٗ فِیۡ قُلُوۡبِکُمْ"[1]الایۃ۔ یعنی اﷲ تعالٰی نے تمہیں ایمان پیارا کردیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کردیاہے اور کفر اور حکم عدولی اوار نافرمانی تمھیں ناگوار کردئیے اب جو کوئی اس کے خلاف کہے اپنا ایمان خراب کرے اور اپنی عاقبت برباد۔والعیاذ باﷲ۔
عقیدہِ ثامنہ ۸_______________ امامت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ
نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نیابتِ مطلقہ کو امامتِ کُبرٰی اور اس منصبِ عظیم پر فائز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع