30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(میرا یہ بیٹا سید ہے،سیادت کا علمبردار)میں امید کرتا ہوں کہ اﷲ عزوجل اس کے باعث دو بڑے گروہ اسلام میں صلح کرادے۔
آیہ کریمہ کا ارشاد ہے: " وَ نَزَعْنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنْ غِلٍّ"[1]۔
اور ہم نے ان کے سینوں میں سے کینے کھینچ لیے۔
جو دنیا میں ان کے درمیان تھے اور طبعیتوں میں جو کدورت و کشیدگی تھی اسے رفق والفت سے بدل دیا اور ان میں آپس میں نہ باقی رہی مگر مودت و محبت۔
اور حضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی کہ آپ نے فرمایا کہ ان شاء اﷲ تعالٰی میں اور عثمان اور طلحہ و زبیران میں سے ہیں جن کے حق میں اﷲ تعالٰی نے یہ ارشاد فرمایا کہ نزعنا الایۃ۔
حضرت مولٰی علی کے اس ارشاد کے بعد بھی ان پر الزام دینا عقل و خرد سے جنگ ہے،مولٰی علی سے جنگ ہے،اور خدا و رسول سے جنگ ہے۔والعیاذ باﷲ۔
جب کہ تاریخ کے اوراق شاہد عادل ہیں کہ حضرت زبیر کو جونہی اپنی غلطی کا احساس ہوا انہوں نے فورًا جنگ سے کنارہ کشی کرلی۔
اور حضرت طلحہ کے متعلق بھی روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنے ایك مدد گار کے ذریعے حضرت مولٰی علی سے بیعت اطاعت کرلی تھی۔
اور تاریخ سے ان واقعات کو کون چھیل سکتا ہے کہ جنگ جمل ختم ہونے کے بعد حضرت مولٰی علی مرتضی نے حضرت عائشہ کے برادر معظم محمد بن ابی بکر کو حکم دیا کہ وہ جائیں اور دیکھیں کہ حضرت عائشہ کو خدا نخواستہ کوئی زخم وغیرہ تو نہیں پہنچا۔بلکہ بعجلت تمام خود بھی تشریف لے گئے اور پوچھا۔آپ کا مزاج کیسا ہے؟
انہوں نے جواب دیا الحمدﷲ اچھی ہوں۔
مولٰی علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:اﷲ تعالٰی آپ کی بخشش فرمائے۔
حضرت صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے جواب دیا اور تمہاری بھی۔
پھر مقتولین کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو کر حضرت مولٰی علی نے حضرت صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی واپسی کا انتظام کیا اور پورے اعزاز و اکرام کے ساتھ محمد بن ابی بکر کی نگرانی میں چالیس معزز عورتوں کے جھرمٹ میں ان کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع