30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تفوّق(زیادت وفوقیت)ہے تو ولایت(خاصہ جو کہ ایك قُربِ خاص ہے کہ مولٰی عزوجل اپنے برگزیدہ بندوں کو محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرماتا ہے یہ)بھی انہیں کی اعلٰی ہوئی(اور ولایت شیخین،جملہ اکابر اولیاء کی ولایت سے بالا)
(ہاں)مگر ایك درجہ قُرب الہٰی جل جلالہ و رزقنا اﷲ کا(ضروری اللحاظ اور خصوصا حضرات علماء و فضلاء اُمّت کی توجہ کا مستحق ہے اور وہ یہ ہے کہ مرتبہ تکمیل پر حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جانب کمالات نبوت حضرات شیخین کو قائم فرمایا،اور جانبِ کمالاتِ ولایت حضرت مولا علی مشکل کشا کو تو جملہ اولیائے مابعد نے مولٰی علی ہی کے گھر سے نعمت پائی،انہیں کے دستِ نگر تھے،انہیں کے دستِ نگر ہیں اور انہیں کے دستِ نگر رہیں گے)
پر ظاہر ہے کہ سیرالی اﷲ میں تو سب اولیاء برابر ہوتے ہیں اوروہاں " لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہٖ۟"[1]۔(ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے)کی طرح لانفرق بین احدٍ من اولیاءہ(ہم اس کے دوستوں میں کوئی تفریق نہیں کرتے)کہا جاتا ہے(یعنی تمام اولیاء اﷲ اصل طریقِ ولایت یعنی سیرالی اﷲ میں برابر ہوتے ہیں۔اور ایك دوسرے پر سبقت و فضیلت کا قول باعتبار سیر فی اﷲ کیا جاتا ہے کہ جب سالك عالمِ لاہوت پر پہنچا۔سیرو سلوك تمام ہوا،یعنی سیرالی اﷲ سے فراغت کے بعد سیر فی اﷲ ہوتی ہے اور اس کی نہایت وحد نہیں)جب(عالم لاہوت پر پہنچ کر)ماسوائے الہٰی آنکھوں سے گر گیا اور مرتبہ فنا تك پہنچ کر آگے قدم بڑھا تو وہ سیر فی اﷲ ہے اس کے لیے انتہا نہیں اور یہیں تفاوت قُرب (بارگاہِ الہٰی میں عزت و منزلت اور کثرتِ ثواب میں فرق)جلوہ گر ہوتا ہے جس کی سیرفی اﷲ زائد وہی خدا سے زیادہ نزدیک، پھر بعضے بڑھتے چلے جاتے ہیں(اور جذبِ الہٰی انہیں اپنی جانب کھینچتا رہتا ہے ان کی یہ سیر کبھی ختم نہیں ہوتی)اور بعض کو دعوتِ خلق(و رہنمائیِ مخلوق الہی)کے لیے منزل ناسوتی عطا فرماتے ہیں(جسے عالم شہادت و عالم خلق و عالم جسمانی وغیرہ بھی کہتے ہیں۔اور اس منزل میں تعلق مع اﷲ کے ساتھ ان میں خلائق سے علاقہ پیدا کردیا جاتا ہے اور وہ خلق خدا کی ہدایت کی طرف بھی متوجہ رہتے ہیں)ان سے طریقہ خرقہ و بیعت کا رواج پاتا ہے اور سلسلہ طریقت جنبش میں آتا ہے مگر یہ معنی اسے مستلزم نہیں(اور اس سے یہ لازم نہیں آتا)ان کی سیر فی اﷲ اگلوں سے بڑھ جائے۔(اور یہ دعوت خلق ور ہنمائی مخلوق کے باعث
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع