30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بلکہ اس سر کے سبب جو اس کے دل میں راسخ و متمکن ہے[1]۔
وہ صدیق جس کی نسبت ارشا دہوا اگر ابوبکر کا ایمان میری تمام اُمت کے ایمان کے ساتھ وزن کیا جائے تو ابوبکر کا ایمان غالب آئے[2]۔
وہ صدیق کہ خود اُن کے مولائے اکرم و آقائے اعظم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کسی کا ہمارے ساتھ کوئی ایسا سلوك نہیں ہے جس کا ہم نے عوض نہ کردیا ہو سوا ابوبکر کے،کہ ان کا ہمارے ساتھ وہ حسن سلوك ہے جس کا بدلہ اﷲ تعالٰی انہیں روز قیامت دے گا[3]۔
وہ صدیق جس کی افضلیت مطلقہ پر قرآنِ کریم کی شہادت ناطقہ ہے کہ فرمایا: " اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ ؕ"[4]۔تم میں سب سے زیادہ عزت والا اﷲ کے حضور وہ ہے جو تم سب میں اتقی ہے۔
اور دوسری آیۃ کریمہ میں صاف فرمادیا۔"وَ سَیُجَنَّبُہَا الْاَتْقَی ﴿ۙ۱۷﴾"[5]۔ قریب ہے کہ جہنم سے بچایا جائے گا وہ اتقٰی۔
بشہادت آیت اُولی ان آیات کریمہ سے وہی مراد ہے جو افضل و اکرم امتِ مرحومہ ہے،اور وہ نہیں مگر اہل سنت کے نزدیك صدیق اکبر،اور تفضیلیہ و روافض کے نزدیك یہاں امیر المومنین مولٰی علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
مگر اﷲ عزوجل کے لیے حمد کہ اس نے کسی کی تلبیس و تدلیس اور حق و باطل میں آمیزس و آویزش کو جگہ نہ چھوڑی،آیۃ کریمہ نے ایسے وصفِ خاص سے اتقٰی کی تعیین فرمادی جو حضرت صدیق اکبر کے سوا کسی پر صادق آہی نہیں سکتا۔
فرماتا ہے:" وَ مَا لِاَحَدٍ عِنۡدَہٗ مِنۡ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰۤی ﴿ۙ۱۹﴾"[6]۔اس پر کسی کا ایسا احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے۔
[1] کشف الخفا حدیث ۲۲۲۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/ ۱۷۰
[2] تاریخ الخلفاء فصل فیما ورد من کلام الصحابۃ الخ دارصادربیروت ص ۷۸،شعب الایمان حدیث۳۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۶۹
[3] جامع الترمذی ابواب المناقب باب مناقب ابی بکر الصدیق رضی اﷲ عنہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۰۷
[4] القرآن الکریم ۴۹/ ۱۳
[5] القرآن الکریم ۹۲/ ۱۷
[6] القرآن الکریم ۹۲/ ۱۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع