30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
برتقدیر ثبوت(بشرطیکہ ثابت وصحیح مان لی جائے)وغیر ذٰلک(احادیث و اخبار)سے انہیں آگاہی نہ تھی۔(ہوش و حواس،علم و شعور اور فہم و فراست میں یگانہ روزگار ہوتے ہوئے ان اسرارِ درون خانہ سے بیگانہ رہے اور اسی بیگانگی میں عمریں گزاردیں) یا (انہیں آگاہی اور ان اسرار پر اطلاع)تھی تو وہ(ان واضح الدلالۃ الفاظ)کا مطلب نہ سمجھے(اور غیرت و شرم کے باعث اور کسی سے پوچھ نہ سکے۔)یا سمجھے۔(حقیقت حال سے آگاہ ہوئے)اور اس میں تفضیل شیخین کا خلاف پایا(مگر خاموش رہے اور جمہور صحابہ کرام کے برخلاف عقیدہ رکھا زبان پر اس کا خلاف نہ آنے دیا اور حالانکہ یہ ان کی پاك جنابوں میں گستاخی اور ان پر تقیہ ملعونہ کی تہمت تراشی ہے)تو(اب ہم)کیونکر خلاف سمجھ لیں(کسے کہہ دیں کہ ان کے دل میں خلاف تھا زبان سے اقرار)اور تصریحات بیّنہ و قاطع الدلالۃ)(روشن صراحتوں قطعی دلالتوں)وغیر محتملۃ الخلاف کو(جن میں کسی خلاف کا احتمال نہیں کوئی ہیر پھیر نہیں)کیسے پس پشت ڈال دیں الحمد ﷲ رب العلمین کہ حق تبارك و تعالٰی نے فقیر حقیر کو یہ ایسا جواب شافی تعلیم فرمایا کہ منصف(انصاف پسندذی ہوش)کے لیے اس میں کفایت(اور یہ جواب اس کی صحیح رہنمائی و ہدایت کے لیے کافی)اور متعصب کو(کہ آتش غلو میں سُلگتا اور ضد و نفسانیت کی راہ چلتا ہے)اس میں غیظ بے نہایت("قُلْ مُوۡتُوۡا بِغَیۡظِکُمْؕ "[1]۔انہیں آتشِ غضب میں جلنا مبارک)(ہم مسلمانانِ اہلسنت کے نزدیک،حضرت مولٰی کی ماننا)یہی محبتِ علی مرتضٰی ہے اور اس کا بھی(یہی تقاضا)یہی مقتضٰی ہے کہ محبوب کی اطاعت کیجئے اور اس کے غضب اور اسی کروڑوں کے استحقاق سے بچئے(والعیاذ باﷲ)
اﷲ! اﷲ وہ امام الصدیقین،اکمل اولیاء العارفین سیّدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ جس نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم و محبت کو حفظ جان پر مقدم رکھا حالانکہ جان کا رکھنا سب سے زیادہ اہم فرض ہے۔اگر بوجہ ظلم عدو مکابر وغیرہ نماز پڑھنے میں معاذ اﷲ ہلاك جان کا یقین ہو تو اس وقت ترك نماز کی اجازت ہوگی۔
یہی تعظیم و محبت و جاں نثاری و پروانہ واریِ شمع رسالت علیہ الصلوۃ والتحیۃ ہے جس نے صدیق اکبر کو بعد انبیاء و مرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین تمام جہان پر تفوق بخشا اور ان کے بعد تمام عالم،تمام خلق،تمام اولیاء تمام عرفاء سے افضل و اکرم و اکمل و اعظم کردیا۔
وہ صدیق جس کی نسبت حدیث میں آیا کہ ابوبکر کو کثرتِ صوم و صلوۃ کی وجہ سے تم پر فضیلت نہ ہوئی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع