30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مجلسوں اور جامع مسجدوں)میں ارشاد فرمایا دوسروں سے واقع نہیں ہوا۔
(ازاں جملہ وہ ارشاد گرامی کہ)امام بخاری رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ،حضرت محمد بن حنفیہ صاحبزادہ جناب امیر المومنین علی رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی:
قال قلت لابی ایّ الناس خیر بعد النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم؟ قال ابوبکر قال قلت ثم من ؟ قال عمر[1]۔
یعنی میں نے اپنے والد ماجد امیر المومنین مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ سے عرض کیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہیں؟ ارشاد فرمایا:ابوبکر میں نے عرض کیا پھر کون ؟ فرمایا عمر۔
ابوعمر بن عبداﷲ،حکم بن حجل سے اور دار قطنی اپنی سنن میں راوی،جناب امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ تعالٰی فرماتے ہیں: لااجد احدًا فضلنی علٰی ابی بکر و عمر الا جلدتہ حدالمفتری[2]۔
جسے میں پاؤں گا کہ شیخین(حضرت ابوبکر و عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما)سے مجھے افضل بتاتا(اور مجھے ان میں سے کسی پر فضیلت دیتا)ہے اسے مُفتری(افتراء و بہتان لگانے والے)کی حد ماروں گا کہ اسی۸۰کوڑے ہیں۔
ابوالقاسم طلحی کتاب السّنّۃ میں جناب علقمہ سے راوی:بلغ علیًّا ان اقوامًا یفضّلونہ علٰی ابی بکر و عمر فصعد المنبر فحمداﷲ واثنی علیہ ثم قال ایہا الناس ! انہ بلغنی ان اقواما یفضّلو نی علٰی ابی بکر و عمر ولو کنت تقدمت فیہ لعاقبت فیہ فمن سمعتہ بعد ھذا الیوم یقول ھذا فھو مفتر،علیہ حد المفتری،ثم قال ان خیر ھٰذہ الامۃ بعد نبیہا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ابوبکر ثم عمر ثم اﷲ اعلم بالخیر بعدہ قال وفی المجلس الحسن بن علی فقال واﷲ لوسمی الثالث لسمّٰی عثمٰن[3]۔یعنی جناب مولٰی علی کو خبر پہنچی کہ لوگ انہیں حضرات شیخین رضی اﷲ تعالٰی عنہما پر تفضیل دیتے(اور حضرت مولٰی کو ان سے افضل بتاتے)ہیں۔پس منبر پر تشریف لے گئے اور اﷲ تعالٰی کی حمد و ثناء کی،پھر فرمایا اے لوگو! مجھے خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مجھے ابوبکر و عمر سے افضل بتاتے ہیں اور اگر میں نے پہلے سے
[1] صحیح البخاری مناقب اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم باب فضل ابی بکر بعد النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۱۸
[2] الصواعق المحرقۃ بحوالہ الدارقطنی الباب الثالث دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۹۱
[3] ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء بحوالہ ابی القاسم مسند علی بن ابی طالب سہیل اکیڈمی ۱/ ۶۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع