30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثواب بے حساب کا وعدہ فرماچکا ہے۔
تو اب دوسرے کو کیا حق رہا کہ ان کی کسی بات پر طعن کرے،کیا طعن کرنے والا،اﷲ تعالٰی سے جُدا اپنی مستقل حکومت قائم کرنا چاہتا ہے،اس کے بعد جو کوئی کچھ بکے وہ اپنا سر کھائے اور خود جہنم میں جائے۔
علامہ شہاب الدین خفا جی،نسیم الریاض شرح شفائے قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:جو حضرت معاویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کُتوں میں سے ایك کُتا ہے[1]۔(احکامِ شریعت وغیرہ)
تنبیہ ضروری:اہلِ سنت کا یہ عقیدہ کہ ونکف عن ذکر الصحابۃ الابخیر[2]۔
یعنی صحابہ کرام کا جب بھی ذکر ہو تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے،انہیں صحابہ کرام کے حق میں جو ایمان و سنت و اسلام حقیقی پر تادمِ مرگ ثابت قدم رہے اور صحابہ کرام جمہور کے خلاف،اسلامی تعلیمات کے مقابل،اپنی خواہشات کے اتباع میں کوئی نئی راہ نہ نکالی اور وہ بدنصیب کہ اس سعادت سے محروم ہو کر اپنی دکان الگ جما بیٹھے اور اہل حق کے مقابل،قتال پر آمادہ ہوگئے۔وہ ہرگز اس کا مصداق نہیں اس لیے علماء کرام فرماتے ہیں کہ جنگِ جمل و صفین میں جو مسلمان ایك دوسرے کے مقابل آئے ان کا حکم خطائے اجتہادی کا ہے،لیکن اہل نہروان جو مولا علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کی تکفیر کرکے بغاوت پر آمادہ ہوئے وہ یقینًا فساق،فجار،طاغی وباغی تھے اور ایك نئے فرقہ کے ساعی و ساتھی جو خوارج کے نام سے موسوم ہوا اور اُمّت میں نئے فتنے اب تك اسی کے دم سے پھیل رہے ہیں۔(سراج العوارف وغیرہ)
عقیدہ سادسہ۶ ________________ عشرہ مبشرہ و خلفائے اربعہ
اب ان سب میں افضل وا علٰی و اکمل حضرات عشرہ مبشرہ ہیں،وہ دس صحابی جن کے قطعی جنتی ہونے کی بشارت وخوشخبری رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کی زندگی ہی میں سنادی تھی وہ عشرہ مبشرہ کہلاتے ہیں۔یعنی حضرات خلفائے(۱تا۴) اربعہ راشدین،حضرت طلحہ بن عبید اﷲ،حضرت زبیر بن العوام،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع