30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللّٰھم اثبات علی الہٰدی انك انت العلی الاعلٰی۔
(اے اﷲ ! ہم تجھ سے ہدایت پر ثابت قدمی مانگتے ہیں،بے شك تُو ہی بُلند و برتر ہے)
صحابہ کرام کے باب میں یاد رکھنا چاہیے کہ۔
(وہ حضرات رضی اﷲ تعالٰی عنہم انبیاء نہ تھے،فرشتے نہ تھے کہ معصوم ہوں،ان میں سے بعض حضرات سے لغزشیں صادر ہوئیں مگر ان کی کسی بات پر گرفت اﷲ و رسول کے احکام کے خلاف ہے۔
اﷲ عزوجل نے سورہ حدید میں صحابہ سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی دو قسمیں فرمائیں۔
(۱)"مَّنْ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ ؕ"۔
(۲)"الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ"[1]۔
یعنی ایك وہ کہ قبل فتح مکہ مشرف بایمان ہوئے راہِ خدا میں مال خرچ کیا اور جہاد کیا جب کہ ان کی تعداد بھی بہت قلیل تھی۔اور وہ ہر طرح ضعیف و درماندہ بھی تھے،انہوں نے اپنے اوپر جیسے جیسے شدید مجاہدے گوارا کرکے اور اپنی جانوں کو خطروں میں ڈال ڈال کر،بے دریغ اپنا سرمایہ اسلام کی خدمت کی نذر کردیا۔یہ حضرات مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین ہیں،ان کے مراتب کا کیا پوچھنا۔
دوسرے وہ کہ بعد فتح مکہ ایمان لائے،راہِ مولا میں خرچ کیا اور جہا دمیں حصہ لیا۔ان اہلِ ایمان نے اس اخلاص کا ثبوت جہاد مالی و قتالی سے دیا،جب اسلامی سلطنت کی جڑ مضبوط ہوچکی تھی اور مسلمان کثرتِ تعداد اور جاہ و مال ہر لحاظ سے بڑھ چکے تھے،اجر اُن کا بھی عظیم ہے لیکن ظاہر ہے کہ ان سابقون اوّلون والوں کے درجہ کا نہیں۔
اسی لیے قرآن عظیم نے ان پہلوں کو ان پچھلوں پر تفضیل دی۔
اور پھر فرمایا: " وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی ؕ"[2]۔
ان سب سے اﷲ تعالٰی نے بھلائی کا وعدہ فرمایا۔
کہ اپنے اپنے مرتبے کے لحاظ سے اجر ملے گا سب ہی کو،محروم کوئی نہ رہے گا۔
اور جن سے بھلائی کا وعدہ کیا ان کے حق میں فرماتا ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع