30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
محبت سے انہیں دوست رکھتا ہے،اور جوان کا دشمن ہے میری عداوت سے ان کا دشمن ہے،جس نے انہیں ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی،اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ کو ایذا دی،اور جس نے ا ﷲ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اﷲ تعالٰی اس کو گرفتار کرلے۔(یعنی زندہ عذاب و بلا میں ڈال دے)رواہ الترمذی [1]وغیرہ۔
اب اے خارجیو،ناصبیو!(حضرت ختنین و امامین جلیلین سے خصوصًا اپنے سینوں میں بغض و کینہ رکھنے اور انہیں چنین و چناں کہنے والو!)کیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے(مذکور ہ بالا)اس ارشاد عام اور جناب باری تعالٰی نے آیۃ کریمہ " رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوۡا عَنْہُ"[2]سے(کہ اﷲ تعالٰی ان سے یعنی ان کی اطاعت و اخلاص سے راضی اور وہ اس سے یعنی اس کے کرم و عطا سے راضی)جناب ذوالنورین(امیر المومنین حضرت عثمان غنی)و حضرت اسد اﷲ غالب(امیر المومنین علی بن ابی طالب)و حضرات سبطین کریمین(امام حسن و امام حسین)رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین(کو مستثنٰی کردیا اور اس استثناء کو تمہارے کان میں پھونك دیا ہے)یا اے شیعو! اے رافضیو! ان احکام شاملہ سے(کہ سب صحابہ کو شامل ہیں اور جملہ صحابہ کرام ان میں داخل ہیں۔)خدا ورسول(جل و علا وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم)نے(امیر المومنین خلیفۃ المسلمین)جناب فاروق اکبر(وامیر المومنین کامل الحیاءِ والایمان)حضرت مجہز جیش العسرۃ(فی رضی الرحمن عثمان بن عفّان)و جناب ام المومنین،محبوبہ سیّد العالمین(طیبہّ،طاہرہ، عفیفہ)عائشہ صدیقہ بنتِ صدیق وحضرات طلحہ و زبیر و معاویہ(کہ اوّل کے بارے میں ارشاد واردکہ اے طلحہ ! یہ جبریل ہیں تجھے سلام کہتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ میں قیامت کے ہولوں میں تمہارے ساتھ رہوں گا[3]۔اور ثانی کے باب میں ارشاد فرمایا یہ جبریل ہیں تجھے سلام کہتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ میں روزِ قیامت تمہارے ساتھ رہوں گا یہاں تك کہ تمہارے چہرہ سے جہنم کی اُڑتی چنگاریاں دور کردوں گا[4]۔امام جلال الدین سیوطی جمع الجوامع میں فرماتے ہیں سَنْدُہ صحیح[5]۔اس حدیث کی سند صحیح ہے۔اور
[1] جامع الترمذی کتاب المناقب باب فی من سبّ اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حدیث ۳۸۸۸دارالفکر بیروت ۵/ ۴۶۳،مسند احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن مغفل المزنی المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۵۴ و ۵۷
[2] القرآن الکریم ۹/ ۱۰۰
[3] کنزالعمال حدیث ۳۶۷۳۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳/ ۲۴۶ و ۲۴۷
[4] کنزالعمال حدیث ۳۳۲۹۴ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۱/ ۶۸۳
[5] کنزالعمال حدیث ۳۶۷۳۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳/ ۲۴۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع