30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام)حسن و ابوعبداﷲ(حضرت امام)حسین،اور تمام مادرانِ اُمت،بانوانِ رسالت(امہات المومنین)ازواج مطہرات)علی المصطفٰی وعلیہم کلہم الصلوۃ والتحیۃ(ان صحابہ کرام کے زمرہ میں)داخل کہ صحابی ہر وہ مسلمان ہے جو حالتِ اسلام میں اس چہرہ خدا نما(اور اس ذاتِ حق رسا)کی زیارت سے مشرف ہوا۔او راسلام ہی پر دنیا سے گیا۔(مرد ہو خواہ عورت،بالغ ہو خواہ نابالغ)ان(اعلٰی درجاتِ والا مقامات)کی قدر و منزلت وہی خوب جانتا ہے جو سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ کی عزت و رفعت سے آگاہ ہے۔(اس کا سینہ انوارِ عرفان سے منور اور آنکھیں جمال حق سے مشرف ہیں،حق پر چلتا،حق پر جیتا اور حق کے لیے مرتا ہے اور قبول حق اس کا وطیرہ ہے)آفتاب نیمروز(دوپہر کے چڑھتے سورج)سے روشن تر کہ محب(سچا چاہنے والا)جب قدرت پاتا ہے اپنے محبوب کو صحبتِ بد(برے ہم نشینوں اور بدکار رفیقوں)سے بچاتا ہے۔(اور مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتا مانتا ہے کہ)حق تعالٰی قادر مطلق(اور ہر ممکن اس کے تحت قدرت ہے)اور(یہ کہ)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اس کے محبوب و سید المحبوبین(تمام محبوبانِ بارگاہ کے سردار و سر کے تاج)کیا عقل سلیم(بشرطیکہ وہ سلیم ہو)تجویز کرتی(جائز وگوارہ رکھتی)ہے کہ ایسا قدیر(فعال لمّا یرید جو چاہے اور جیسا چاہے کرے)ایسے عظیم ذی و جاہت،جانِ محبوبی وکانِ عزت(کہ جو ہوگیا،جو ہوگا،اور جو ہورہا ہے انہیں کی مرضی پر ہوا۔انہیں کی مرضی پر ہوگا اور انہیں کی مرضی پر ہورہا ہے۔ایسے محبوب ایسے مقبول)کے لیے خیارخلق کو)(کہ انبیاء و مرسلین کے بعد تمام خلائق پر فائق ہوں۔حضور کا صحابی)جلیس و انیس(ہم نشین و غمخوار)و یارو مددگار مقرر نہ فرمائے(نہیں ہر گز نہیں تو جب کہ مولائے قادر و قدیر جل جلالہ نے انہیں،ان کی یاری و مددگاری،رفاقت و صحبت کے لیے منتخب فرمالیا تو اب)جو ان میں سے کسی پر طعن کرتا ہے جناب باری تعالٰی کے کمال حکمت و تمام قدرت(پر الزام نقص و ناتمامی کا لگاتا ہے)یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی غایت محبوبیت(کمال شانِ محبوبی)و نہایت منزلت(وہ انتہائے عزت وجاہت اوران مراتب رفیعہ اور مناصب جلیلہ)پر حرف رکھتا ہے۔(جو انہیں بارگاہِ صمدیت میں حاصل ہیں تو یہ مولائے قدوس تعالٰی شانہ کی بارگاہ میں یا اس کے محبوب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی جناب پاك میں گستاخانہ زبان درازی و دریدہ دہنی ہے اور کھلی بغاوت)اسی لیے سرورِ عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں۔اﷲ اﷲ فی اصحابی،لاتتخذوھم غرضًا من بعدی فمن احبھم فبحبی احبھم ط ومن ابغضھم فببغضی ابغضھم ط ومن اذاھم فقداٰذانی ومن اٰذانی فقد اذی اﷲ ط ومن اذی اﷲ فیوشك ان یا خذہ ط۔خدا سے ڈرو،خدا سے ڈرو میرے اصحاب کے حق میں انہیں نشانہ نہ بنالینا میرے بعد جو انہیں دوست رکھتا ہے میری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع