30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اجمعین،ان کے علوِ شان و رفعت مکان(شوکت و عظمت اور عالی مرتبت)کو بھی کوئی ولی نہیں پہنچتا)(خواہ کتنا ہی مقرب بارگاہِ احدیّت ہو)اور ان کی جناب میں گستاخی کا بھی بعینہ وہی حکم(جو انبیاء مرسلین کی رفعت پناہ بارگاہوں میں گستاخی کا ہے کہ کفر قطعی ہے ان ملائکہ مقربین میں بالخصوص)جبرئیل علیہ السلام مِن وَجہٍ رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے استاذ عـــــہ ہیں قال تعالٰی " عَلَّمَہٗ شَدِیۡدُ الْقُوٰی ۙ﴿۵﴾"[1]۔ (سکھایا ان کو یعنی سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو سخت قوتوں والے طاقتور نے،یعنی جبرائیل علیہ السلام نے جو قوت و اجلال خداوندی کے مظہرِ اتم،قوت جسمانی وعقل و نظر کے اعتبار سے کامل وحی الہٰی کے بار کے متحمل،چشم زدن میں سدرۃ المنتہٰی تك پہنچ جانے والے جن کی دانشمندی اور فراست ایمانی کا یہ عالم کہ تمام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی بارگاہوں میں وحی الٰہی لے کر نزول اجلال فرماتے اور پوری
|
عــــــہ:قال الامام الفخرالرازی وقولہ شدید القوی، فیہ فوائد الاولٰی ان مدح المعلم مدح المتعلم فلو قال علمہ جبرائیل ولم یصفہ ماکان یحصل للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بہ فضیلۃ ظاھرۃ،الثانیۃ ھی ان فیہ ردًّا علیھم حیث قالوا اساطیر الاولین سمعھا وقت سفرہ الی الشام فقال لم یعلمہ احد من الناس بل معلمہ شدید القوی[2]۔الخ ولہذا قال الامام احمد رضا ماقال وھو حق ثابت،واﷲ اعلم۔
العبد محمد خلیل عفی عنہ |
امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی کے ارشاد شدید القوٰی میں کئی فائدے ہیں،پہلا فائدہ یہ ہے کہ معلم کی مدح متعلم کی مدح ہوتی ہے،اگر اﷲ تعالٰی یوں فرماتا کہ اس کو جبرائیل نے سکھایا ہے،اور وصف شدید القوٰی سے اس کو متصف نہ فرماتا تو اس سے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو فضیلت ظاہرہ حاصل نہ ہوتی،دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس میں رد ہے ان لوگوں کا جنہوں نے کہا یہ پہلے لوگوں کے قصے ہیں جن کو انہوں نے شام کی طرف سفر کے دوران سُن لیا ہے،تو اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ انہیں لوگوں میں سے کسی نے نہیں سکھایا ان کا معلم تو شدید القوٰی ہے الخ، اسی لیے امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے جو کہا ہے وہ حقِ ثابت ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع