30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے باہر،عقل سے وراء ہے۔)
موجود واحد ہے نہ وہ واحد جو چند(ابعاض واجزاء)سے مل کر مرکب ہوا(اورشے واحد کا نام اس پر رواٹھہرا)نہ وہ واحد جو چند کی طرف تحلیل پائے(جیسا کہ انسانِ واحد یا شَے واحد کہ گوشت پوست و خون واستخوان وغیرہا اجزاء وابعاض سے ترکیب پا کر مرکب ہوا اور ایك کہلایا اور اس کی تحلیل و تجزی اور تجزیہ،انہیں اعضاء واجزاء وابعاض کی طرف ہوگا جن سے اس نے ترکیب پائی اور مرکب کہلایا کہ یہی جسم کی شان ہے،اور ذاتِ باری تعالٰی عزشانہ جسم و جسمانیات سے پاك و منزہ ہے۔)نہ وہ واحد جو بہ تہمت حلول عینیّت(کہ اس کی ذات قدسی صفات پر یہ تہمت لگائی جائے کہ وہ کسی چیز میں حلول کیے ہوئے یا اس میں سمائی ہوئی ہے یا کوئی چیز ا سکی ذاتِ احدیت میں حلول کیے ہوئے اور اس میں پیوست ہے اور یوں معاذ اﷲ وہ)اوجِ وحدت (وحدانیت و یکتائی کی رفعتوں)سے حضیض اثنینیت(دوئی اور اشتراك کی پستیوں)میں اتر آئے۔ھوولاموجود الا ھو آیۃ کریمہ " سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوۡنَ ﴿٪۴۰﴾"[1]۔ (پاکی اور برتری ہے اسے ان شریکوں سے)جس طرح شرك فی الالوہیت کو رَد کرتی ہے۔(اور بتاتی ہے کہ خداوند قدوس کی خدائی اور اس معبود برحق کی الوہیت وربوبیت میں کوئی شریك نہیں۔ "وَ ہُوَ الَّذِیۡ فِی السَّمَآءِ اِلٰہٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰہٌ ؕ"[2]۔وہی آسمان والوں کا خدا اور وہی زمین والوں کا خدا،تو نفسِ الوہیت وربوبیت میں کوئی اس کا شریك کیا ہوتا،اس کی صفاتِ کمال میں بھی کوئی اس کا شریك نہیں۔"لَیۡسَ کَمِثْلِہٖ شَیۡءٌ ۚ"[3]۔اس جیسا کوئی نہیں)
یونہی(یہ آیۃ کریمہ)اشتراك فی الوجود کی نفی فرماتی ہے(تو اس کی ذات بھی منزّہ اوراس کی تمام صفات کمال بھی مبرا ان تمام نالائق امور سے جو اہلِ شرك وجاہلیت اس کی جانب منسوب کرتے ہیں۔حق یہ ہے کہ وجود اسی ذات برحق کے لیے ہے،باقی سب ظلال وپر تو ؎
غیرتش غیر درجہاں نہ گزاشت لاجرم عین جملہ معنی شد
(اور وحدت الوجود کے جتنے معنی اور جس قدر مفاہیم عقل میں آسکتے ہیں وہ یہی ہیں کہ وجود واحد،موجود واحد،باقی سب اسی کے مظاہر اور آئینے کہ اپنی حدِ ذات میں اصلًا وجود و ہستی سے بہرہ نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع