30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
محال ہیں،یا یوں کہئے کہ ذاتِ باری تعالٰی ان تمام حوادث وحوائج سے پاك ہے جو خاصہ بشریت ہیں)نہ والد ہے نہ مولود(نہ وہ کسی کا باپ ہے نہ کسی کا بیٹا،کیونکہ کوئی اس کا مجالس وہم جنس نہیں،اور چونکہ وہ قدیم ہے اور پیدا ہونا حادث و مخلوق کی شان)نہ کوئی شے اس کے جوڑ کی(یعنی کوئی اس کا ہمتا کوئی اس کا عدیل نہیں۔مثل و نظیر و شبیہ سے پاك ہے اور اپنی ربوبیت والوہیت میں صفاتِ عظمت و کمال کے ساتھ موصوف)اور جس طرح ذات کریم اس کی،مناسبتِ ذوات سے مبّرا اسی طرح صفاتِ کمالیہ اس کی،مشابہت صفات سے معرّا(اس کا ہر کمال عظیم اور ہر صفت عالٰی،کوئی مخلوق کیسی ہی اشرف و اعلٰی ہو اس کی شریك کسی حیثیت سے،کسی درجہ میں نہیں ہوسکتی)مسلمان پر لا الہٰ الاّ اﷲ ماننا،اﷲ سبحانہ وتعالٰی کو احد،صمد،لاشریك لہ جاننا فرض اول و مدار ایمان ہے کہ اﷲ ایك ہے اس کا کوئی شریك نہیں،نہ ذات میں کہ لا الٰہ الا اﷲ(اﷲ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں)نہ صفات میں کہ " لَیۡسَ کَمِثْلِہٖ شَیۡءٌ ۚ"[1]۔اس جیسا کوئی نہیں،نہ اسماء میں کہ " ہَلْ تَعْلَمُ لَہٗ سَمِیًّا ﴿٪۶۵﴾"[2]۔کیا اس کے نام کا دوسرا جانتے ہو؟ نہ احکام میں کہ " وَّلَا یُشْرِکُ فِیۡ حُکْمِہٖۤ اَحَدًا ﴿۲۶﴾"[3]۔اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریك نہیں کرتا،نہ افعال میں کہ " ہَلْ مِنْ خٰلِقٍ غَیۡرُ اللہِ"[4]۔کیا اﷲ کے سوا کوئی اور خالق ہے،نہ سلطنت میں کہ" وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الْمُلْکِ"[5] ۔اور بادشاہی میں کوئی اس کا شریك نہیں،تو جس طرح اس کی ذات اور ذاتوں کے مشابہ نہیں یونہی اس کی صفات بھی صفاتِ مخلوق کے مماثل نہیں۔
اور یہ جو ایك ہی نام کا اطلاق اس پر اور اس کی کسی مخلوق پر دیکھا جاتا ہے جیسے علیم،حکیم،کریم،سمیع،بصیر اور ان جیسے اور،تو یہ محض لفظی موافقت ہے نہ کہ معنوی شرکت،اس میں حقیقی معنی میں کوئی مشابہت نہیں ولہذا مثلًا)اوروں کے علم وقدرت کو اس کے علم وقدرت سے(محض لفظی یعنی)فقط ع،ل،م،ق،د،ر،ت میں مشابہت ہے۔(نہ کہ شرکت معنوی)اس(صوری و لفظی موافقت)سے آگے(قدم بڑھے تو)اس کی تعالٰی وتکبّر(برتری و کبریائی)کا سرا پردہ کسی کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع