30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذات و صفات میں،شریك کا وجود،محض وہم انسانی کی ایك اختراع وایجاد ہے)خالق ہے۔(ہر شے کا،ذوات ہوں خواہ افعال،سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں)نہ علت سے(اس کے افعال نہ علت و سبب کے محتاج،نہ اس کے فعل کے لیے کوئی غرض،کہ غرض اس فائدہ کو کہتے ہیں جو فاعل کی طرف رجوع کرے اور نہ اس کے افعال کے لیے غایت،کہ غایت کا حاصل بھی وہی غرض ہے۔فعال ہے(ہمیشہ جو چاہے کرلینے والا)نہ جوارح(وآلات)سے(جب کہ انسان اپنے ہر کام میں اپنے جوارح یعنی اعضائے بدن کا محتاج ہے۔مثلًا علم کے لیے دل و دماغ کا۔دیکھنے اور سننے کے لیے آنکھ،کان کا،لیکن خداوند قدوس کہ ہر پست سے پست آواز کو سنتا اور ہر باریك سے باریك کو کہ خوردبین سے محسوس نہ ہو دیکھتا ہے،مگر کان آنکھ سے اس کا سننا دیکھنا اور زبان سے کلام کرنا نہیں کہ یہ سب اجسام ہیں۔اور جسم و جسمانیت سے وہ پاک)قریب ہے۔ (اپنے کمالِ قدرت و علم ورحمت سے)نہ(کہ)مسافت سے(کہ اس کا قرب ماپ و پیمائش میں سما سکے)ملک(وسلطان و شہنشاہ زمین و آسمان)ہے مگر بے وزیر(جیسا کہ سلاطین دنیا کے وزیر باتدبیر ہوتے ہیں کہ اس کے امورِ سلطنت میں اس کا بوجھ اٹھاتے اور ہاتھ بٹاتے ہیں۔)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
قلیل مدت میں اپنی مصروفیات کے باوجود کامیابی سے سرفراز ہوا۔
میں اپنے مقصد میں کہاں تك کامیاب ہوا،اس کا فیصلہ آپ کریں گے،اور میری کوتاہ فہمی و قصور علمی آپ کے خیال مبارك میں آئے تو اس سے اس ہمیچمداں کو مطلع فرمائیں گے۔
اور اس حقیقت کے اظہار میں یہ فقیر فخر محسوس کرتا ہے کہ اس رسالہ مبارکہ میں حاشیے بین السطور اور تشریح مطالب(جو اصل عبارت سے جدا،قوسین میں محدود ہے،اور اصل عبارت خط کشیدہ)جو کچھ پائیں گے وہ اکثر و بیشتر مقامات پر اعلٰیحضرت قدس سرہ ہی کے کتب ورسائل اور حضرت استاذی و استاذ العلماء صدرالشریعۃ مولنٰا الشاہ امجد علی قادری برکاتی رضوی اعظمی رحمۃ اﷲ علیہ کی مشہورِ زمانہ کتاب بہارِ شریعت سے ماخوذ ملتقط ہے۔
امید ہے کہ ناظرین کرام اس فقیر کو اپنی دعائے خیر میں یاد فرماتے رہیں گے کہ سفرِ آخرت درپیش ہے اور یہ فقیر خالی ہاتھ،خالی دامن،بس ایك انہیں کا سہارا ہے اور ان شاء اﷲ تعالٰی وہی بگڑی بنائیں گے ورنہ ہم نے تو کمائی سب عیبوں میں گنوائی ہے۔
والسلام،
العبدمحمد خلیل خاں قادری البرکاتی المارہروی عفی عنہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع