30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱۱)وہاں سے آپ تشریف لے گئے،کسی نے آپ کو نہیں دیکھا،آپ کے بارے میں فقط چھپی باتیں جاننے والے کو علم تھا۔
(۱۲)اس قصّہ کو جب دو تین دن گزر گئے آپ کے دوست یعنی صحابہ کرام غم سے دل کا خون پیتے رہے۔
(۱۳)آخر کار تیسرے دن نماز کے بعد تمام صحابہ کرام سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے پاس گئے۔
(۱۴)جب انہوں نے اُم المومنین سے پوچھا تو آپ نے انہیں یہ جواب دیا۔
(۱۵)آپ نے کہا کہ پچھلی رات رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو حق کی طرف سے خطاب ہوا،امت کے عذاب سے متعلق آیت نازل ہوئی۔
(۱۶)جب آپ کے کان مبارك تك یہ آیت پہنچی آپ حجرہ سے باہر چلے گئے کسی نے آپ کو نہیں دیکھا۔
(۱۷)نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے دوستوں سے اس قدر شور بُلند ہوا کہ جنوں اور دیوؤں پر لرزہ طاری ہوگیا۔
(۱۸)صحابہ نے اچانك دور سے ایك چرواہے کو دیکھا اس چرواہے کو دیکھنے سے ان کے دلوں کو کچھ چین آیا۔
(۱۹)اس کے پاس پہنچے اور پوچھا اگر پیغمبر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی تجھے کوئی خبر ہے تو بتا۔
(۲۰)اس نے کہا میں نے مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو کب دیکھا ہے بلکہ میں نے ان کے بارے میں کسی سے سُنا بھی نہیں ہے۔
(۲۱)لیکن تین دنوں سے پہاڑ کے درمیان سے شور کی آواز میرے کانوں میں آتی ہے۔
(۲۲)اس کے رونے سے جانوروں کے دل زخمی ہوگئے ہیں،چراگاہ سے انہوں نے اپنے منہ بند کرلیے ہیں۔
(۲۳)ہر وقت آنکھوں سے آنسو بہاتے ہیں،نیند سے انہوں نے آنکھیں باندھ رکھی ہیں۔
(۲۴)جماعتِ صحابہ نے جب یہ خبر سنی تو ان سب نے اپنا رُخ پہاڑ کی طرف کرلیا۔
(۲۵)پہاڑ کے درمیان ایك غار ظاہر ہوئی،اس غار کے اندر انہوں نے بڑوں کے سردارکو دیکھا۔
(۲۶)بے نیاز کی بارگاہ میں سر سجدہ میں رکھے ہوئے تھے،اپنے خدا سے راز داری میں کہہ رہے تھے۔
(۲۷)فریاد کررہے تھے اور کہہ رہے تھے اے اﷲ ! جب تك تو میری اُمت کے گناہ نہیں بخشے گا،
(۲۸)میں اپنا سر زمین سے نہیں اٹھاؤں گا،روزِ حشر تك میں اسی طرح روتا رہوں گا۔
(۲۹)اس طرح کہہ رہے تھے اور زار و قطار رو رہے تھے،موسم بہار کی طرح آنسو بہہ رہے تھے۔
(۳۰)جب غار کے چمگادڑوں اور صحابہ کرام نے گریہ وزاری کا یہ زور سُنا تو سرکار کے رونے سے سب کے جگر خون ہوگئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع